
امریکا اور تین یورپی ممالک کے حالیہ اقدامات کے بعد غیر رسمی اجلاس بلانے کا موقع نہیں ، امریکی موقف تبدیل نہیں ہوا، بات چیت فضول ہے، ایران
ایران کیساتھ بامقصد سفارتکاری کیلئے پہلے کی طرح تیار ہیں لیکن ایران کے جوہری معاہدے پر مذاکرات سے انکار پر مایوسی ہوئی،ترجمان وائٹ ہاوَس
تہران : واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا ایران سے مذاکرات کیلئے بے چین ہے لیکن ایران نے اسے ٹھینگا دکھادیا ہے ، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزب بورل کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکا اور تین یورپی ممالک کے حالیہ اقدامات کے پیش نظر ایٹمی معاہدے کے بارے میں غیر رسمی اجلاس بلانے کے وقت کو مناسب نہیں سمجھتے، ہمیں عملی طور پر امریکا کے موَقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے اور بائیڈن انتظامیہ بھی سابق صدر ٹرمپ کی شکست خوردہ پالیسیوں پر گامزن ہے اور حتی قرارداد 2231 اور جوہری معاہدے پر عمل نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ مشترکہ ایٹمی معاہدے میں کچھ لینے اور دینے کامعاملہ 5 سال پہلے انجام پاچکا ہے اب عمل کا وقت ہے، ایران مشترکہ ایٹمی معاہدے پر عمل کرچکا ہے اب امریکہ اور تین یورپی ممالک کو اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے، امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کیساتھ بامقصد سفارتکاری کیلئے پہلے کی طرح تیارہے تاہم ایران کے جوہری معاہدے پر مذاکرات سے انکار پر مایوسی ہوئی ، ایران کیساتھ جوہری مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے عالمی طاقتوں سے مشاورت کریں گے، اس سے پہلے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے ایٹمی معاملے پر بات چیت کیلئے دستخط کرنیوالے ممالک کے اجلاس میں امریکا کو بھی شرکت کی تجویز دی تھی جس پر امریکا رضامندی ظاہر کی تھی


































