
انقرہ: ترکیہ کے صدر طیب اُردوان نے شام میں مصالحت کے لیے روڈ میپ پیش کردیا ۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ انقرہ سہ فریقی رابطوں کے ذریعے شامی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے جس میں روس بھی شامل ہوگا۔ ہم شام-ترکی-روس تینوں ایک قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے پہلے ہماری انٹیلی جنس تنظیموں ۔ پھر وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد سربراہان سر جوڑ کر بیٹھیں۔ انہوں نے کہاکہ روسی صدر پیوٹن نے ان کے روڈ میپ سے اتفاق کیا ہے۔ انقرہ صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کا خواہاں نہیں ہے۔ یہ گزشتہ 10 سال میں اسد حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت کرنے کی ترکیہ کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ اپنی سرحد پر شامی کرد جنگجو گروپوں کی موجودگی کو برداشت نہیں کرے گا۔


































