
غزہ : اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے تین سال مکمل ہوگئے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے طوفان الاقصیٰ کے نام سے آپریشن میں بارہ سو صیہونی ہلاک ہوئے اور ڈھائی سو کو یرغمال بنایا گیا۔ حماس کے آپریشن کے بعد اسرائیل نے غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کئے۔ جس میں چوہتر ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور دو لاکھ سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 9 ہزار 500 افراد تاحال لاپتا ہیں جن میں ملبے تلے دبے یا نامعلوم انجام والے افراد شامل ہیں۔ ان شہدا میں 55 فیصد تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں پر مشتمل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 21 ہزار 976 بچے شہید ہو چکے ہیں جن میں ایک سال سے کم عمر کے 1125 شیر خوار بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 9 ہزار ماؤں سمیت 12 ہزار 500 خواتین بھی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئیں۔ اسرائیلی فورسز نے مخصوص طبقات کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 1723 طبی عملے کے اہلکار، سول ڈیفنس کے 149 اہلکار، 262 صحافی اور 4 میئرز سمیت 194 بلدیاتی اہلکار شہید ہوئے۔ امدادی سامان کی سکیورٹی پر مامور 2 ہزار 800 پولیس اہلکار اور کھیلوں سے وابستہ 928 افراد بھی جان کی بازی ہارگئے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں 24 لاکھ سے زائد شہری گزشتہ تین سالوں سے بدترین نسل کشی، فاقہ کشی اور نسلی تطہیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ قابض اسرائیلی فورسز کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں غزہ میں 90 فیصد سے زائد رقبے پر مکمل تباہی پھیل چکی ہے۔ اسرائیل نے زمینی دراندازی، بمباری اور شہریوں کی جبری بے دخلی کے ذریعے غزہ کے 80 فیصد سے زائد رقبے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ گزشتہ 3 سالوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر 2 لاکھ 30 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا جا چکا ہے۔


































