
Oplus_16908288
01۔ *ممتاز انفرادی اخلاق*
شہید سید حسن نصراللہ رح اعلیٰ اخلاق، حسن سلوک اور بہترین معاشرتی رویّے کے حامل تھے۔ وہ دوسروں کے ساتھ محبت، احترام، تواضع اور خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔
02۔ *ذاتی کشش اور جاذبیت*
ان کی شخصیت میں غیر معمولی کشش اور جاذبیت پائی جاتی تھی، جس کے باعث لوگ ان کی گفتگو، شخصیت اور طرز عمل سے متاثر ہوتے اور ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔
03۔ *عبادت، ذکر، دعا اور معنویت*
وہ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا مضبوط تعلق قائم رکھتے تھے۔ عبادت، ذکر، دعا اور روحانی وابستگی ان کی زندگی کا اہم حصہ تھی۔
04۔ *وسعت قلب، صبر اور استقامت*
مشکلات، دباؤ اور سخت حالات میں وہ غیر معمولی تحمل، صبر اور وسعت قلب کا مظاہرہ کرتے تھے اور حالات کی سختی کے باوجود اپنے موقف اور مقصد پر ثابت قدم رہتے تھے۔
05۔ *شجاعت، انقلابی جذبہ اور جہادی روح*
خطرات اور مشکلات کے باوجود وہ جرأت، عزم اور انقلابی جذبے کے ساتھ میدان میں موجود رہتے تھے اور اپنے مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے تھے۔
06۔ *حکمت، عقلانیت، علم اور خردورزی*
وہ اہم معاملات میں محض جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے علم، حکمت، منطق، تجربے اور درست فہم کو اہمیت دیتے تھے۔
07۔ *جہان شناسی اور عالمی شعور*
انہیں عالمی سیاست، مختلف ممالک کے حالات اور بین الاقوامی معاملات کا گہرا ادراک حاصل تھا۔ وہ علاقائی مسائل کو عالمی حالات کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
08۔ *قیادت اور بحرانوں میں مؤثر مدیریت*
پیچیدہ اور بحرانی حالات میں وہ مؤثر قیادت، درست فیصلہ سازی اور حالات کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
09۔ *اجتماعی ادارہ سازی اور اجتماعی قوت پیدا کرنا*
وہ معاشرے میں مؤثر اداروں کی تشکیل، افراد کی تنظیم اور اجتماعی قوت پیدا کرنے کی اہمیت کو سمجھتے تھے اور اس مقصد کے لیے عملی جدوجہد کرتے تھے۔
10۔ *نظامی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور جدتِ عمل*
دفاعی اور عسکری معاملات میں ان کی سوچ گہری اور منظم تھی۔ وہ نئے حالات کے مطابق تخلیقی انداز میں سوچنے اور نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
11۔ *ولایت مداری*
وہ امام خمینی رح اور شہید رہبر معظم انقلاب اسلامی کو اپنا فکری و انقلابی رہنما سمجھتے تھے اور ولایت کے ساتھ گہری فکری، نظریاتی اور عملی وابستگی رکھتے تھے۔
12۔ *عالمی فکر اور تمدنی نقطۂ نظر*
وہ مسائل کو صرف مقامی یا علاقائی سطح پر نہیں دیکھتے تھے بلکہ انہیں وسیع اسلامی اور تمدنی تناظر میں سمجھنے اور ان کے حل کے لیے جامع سوچ اختیار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
13۔ *جاذبہ و دافعہ*
ان کی شخصیت میں ایک طرف حق، اصول اور اپنے مقصد سے وابستہ لوگوں کو جوڑنے کی مضبوط جاذبیت تھی، جبکہ دوسری طرف مخالف قوتوں کے مقابلے میں واضح، مضبوط اور اصولی موقف اختیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔
14۔ *بے قراری، مسلسل محنت اور خستگی ناپذیری*
وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلسل محنت اور جدوجہد کرتے تھے۔ طویل اور مشکل حالات بھی ان کے عزم کو کمزور نہیں کرتے تھے اور وہ مسلسل فعالیت، کوشش اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہتے تھے۔.

































