Mon Oct 05, 2026

اسپین: کرایوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے نیوزی لینڈ نے نیٹو کے دفاعی بینک میں شمولیت سے انکار کر دیا برطانیہ کی گرین پارٹی نے صیہونیت کو نسل پرستی قرار دیدیا اپنی سرزمین امریکا کو ایران کے خلاف استعمال نہ کرنے دیں، ہمسائیہ ممالک کو انتباہ 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی، قالیباف ایران امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے، نائب وزیر خارجہ رہبر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی کی امارات کو تنبیہ، ایران کو چیلنج نہ کرنے کا مشورہ نیتن یاہو مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے یہودی لابی امریکا میں بھاری رقم خرچ کررہی ہے، برنی سینڈر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو ہم پہلے سے زیادہ تیار ہیں، عباس عراقچی تعز میں انصار اللہ کی پیشقدمی جاری مذاکرات کی ناکامی، تحریکِ انصاف کا ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز نماز اللہ سے قریبی تعلق قائم کرنے، محبت، امید، مہربانی اور امن کا جاری چشمہ ہے، ولی امر مسلمین آر اے ایف فئیر فورڈ واقعے میں ایران کے مبینہ کردار سے متعلق برطانوی دعوی مسترد عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر جشن

روزانہ کی خبریں

عراق کی اسلامی مزاحمت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکی انخلا کو مزاحمت کی کامیابی قرار دے دیا

بغداد: عراق کی اسلامی مزاحمت نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گی اور امریکی یا اسرائیلی خطرے کے ساتھ ساتھ عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلحہ اپنے پاس رکھے گی۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کو مزاحمت کاروں کی جانب سے دردناک ضربیں لگنے کے بعد عراق سے انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔ اسلامی مزاحمت کے مطابق وہ گزشتہ 40 سے زائد روز سے کوآرڈینیشن فریم ورک کی جانب سے قائم چار رکنی کمیٹی کے ذریعے عراقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ مذاکرات میں مزاحمت کے ہتھیاروں کو منظم کرنے کے بدلے عراق کی مکمل اور جامع خودمختاری، امریکی اور نیٹو افواج سمیت تمام غیرملکی فوجی موجودگی کے زمینی، فضائی اور بحری انخلا کی تجویز زیرِ بحث رہی۔
گروپ نے کہا کہ مجوزہ سمجھوتے کے تحت اسے عراق کی خودمختاری کی کسی امریکی یا اسرائیلی خلاف ورزی کے خلاف براہِ راست کارروائی کا حق حاصل رہنا تھا، تاہم بغداد حکومت کی جانب سے ابھی تک اس پر جواب نہیں دیا گیا۔ اسلامی مزاحمت نے واضح کیا کہ وہ کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی جانب سے طے کردہ ٹائم لائن یا معاہدے کی پابند نہیں ہوگی اور اس کے ہتھیار مزاحمت کاروں کے پاس ’’امانت‘‘ رہیں گے۔ گروپ کے مطابق یہ ہتھیار عراق اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے کسی بھی دشمن کے خلاف استعمال کے لیے برقرار رکھے جائیں گے۔
بیان میں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکی افواج کے خلاف مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مزاحمت کاروں نے بم حملوں اور راکٹوں کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ گروپ نے 2011 میں امریکی افواج کے انخلا کو بھی مزاحمت کی پہلی کامیابی قرار دیا۔
اسلامی مزاحمت نے مزید کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکی افواج دوبارہ عراق میں آئیں، جسے اس نے امریکی قبضے کا ’’دوسرا مرحلہ‘‘ قرار دیا۔ گروپ کے مطابق اس دوران اس نے راکٹوں اور ڈرونز کی صلاحیتیں تیار کیں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق داعش کی شکست کے بعد امریکی افواج نے مزاحمتی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور متعدد اہم کمانڈروں کو قتل کیا، جس کے بعد اسلامی مزاحمت نے گزشتہ نو برس کے دوران دستیاب تمام ذرائع سے مسلح مزاحمت جاری رکھی۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular