
بغداد: عراق کی اسلامی مزاحمت نے کہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گی اور امریکی یا اسرائیلی خطرے کے ساتھ ساتھ عراق کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلحہ اپنے پاس رکھے گی۔ گروپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کو مزاحمت کاروں کی جانب سے دردناک ضربیں لگنے کے بعد عراق سے انخلا پر مجبور ہونا پڑا۔ اسلامی مزاحمت کے مطابق وہ گزشتہ 40 سے زائد روز سے کوآرڈینیشن فریم ورک کی جانب سے قائم چار رکنی کمیٹی کے ذریعے عراقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ مذاکرات میں مزاحمت کے ہتھیاروں کو منظم کرنے کے بدلے عراق کی مکمل اور جامع خودمختاری، امریکی اور نیٹو افواج سمیت تمام غیرملکی فوجی موجودگی کے زمینی، فضائی اور بحری انخلا کی تجویز زیرِ بحث رہی۔
گروپ نے کہا کہ مجوزہ سمجھوتے کے تحت اسے عراق کی خودمختاری کی کسی امریکی یا اسرائیلی خلاف ورزی کے خلاف براہِ راست کارروائی کا حق حاصل رہنا تھا، تاہم بغداد حکومت کی جانب سے ابھی تک اس پر جواب نہیں دیا گیا۔ اسلامی مزاحمت نے واضح کیا کہ وہ کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی جانب سے طے کردہ ٹائم لائن یا معاہدے کی پابند نہیں ہوگی اور اس کے ہتھیار مزاحمت کاروں کے پاس ’’امانت‘‘ رہیں گے۔ گروپ کے مطابق یہ ہتھیار عراق اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے کسی بھی دشمن کے خلاف استعمال کے لیے برقرار رکھے جائیں گے۔
بیان میں 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکی افواج کے خلاف مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مزاحمت کاروں نے بم حملوں اور راکٹوں کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ گروپ نے 2011 میں امریکی افواج کے انخلا کو بھی مزاحمت کی پہلی کامیابی قرار دیا۔
اسلامی مزاحمت نے مزید کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکی افواج دوبارہ عراق میں آئیں، جسے اس نے امریکی قبضے کا ’’دوسرا مرحلہ‘‘ قرار دیا۔ گروپ کے مطابق اس دوران اس نے راکٹوں اور ڈرونز کی صلاحیتیں تیار کیں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق داعش کی شکست کے بعد امریکی افواج نے مزاحمتی گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور متعدد اہم کمانڈروں کو قتل کیا، جس کے بعد اسلامی مزاحمت نے گزشتہ نو برس کے دوران دستیاب تمام ذرائع سے مسلح مزاحمت جاری رکھی۔


































