
کراچی : پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے سودی نظام کے خاتمے کا ٹائم فریم مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا۔ کراچی میں مفتی تقی عثمانی کی زیر صدارت حرمتِ سود کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں عدلیہ سے شکوہ کیا گیا کہ شرعی عدالت سے فیصلے کے بعد معاملہ کیوں طول پکڑ رہا ہے؟۔ علماء نے مطالبہ کیا کہ پروویڈنٹ فنڈ اور سرکاری اداروں کی بھاری رقوم اسلامی بینکاری نظام میں رکھی جائیں۔ مقررین نے نئی سودی برانچز پر پابندی کی تجویز پیش کی اور مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کی شریعت بینچ کو فعال کیا جائے۔ مفتی تقی عثمانی نے سودی نظام ختم کرنے کے ٹائم فریم مقرر کرنے کی قرارداد منظور کرائی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 5 سال میں ملک سے سود کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔


































