Sat Oct 31, 2026

ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر کوئی پابندی نہیں، ترجمان پاک فوج امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے اور محسن رضائی کیساتھ رابطے میں ہیں ٹرمپ کی الیکشن کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی آبنائے ہرمز، سپر ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، آگ بھڑک اٹھی ایران کیلئے ایٹم بم بنانا بچوں کا کھلونا بنانے جیسا ہوگا، سابق ایرانی عہدیدار امریکا ایران معاہدے کی کوشش، قطری ثالث پھر تہران پہنچ گئے شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی: ایران امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی فوجی نیٹ ورک سرگرم، اربوں ڈالر کے سازو سامان کی درآمد پوسٹ سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کرنے والے ٹرمپ کا سوشل میڈیا پوسٹس تک فوری رسائی فروخت کرنے کا فیصلہ بھارت میں گائے ذبح کرنے پر 3 مسلمانوں کو عمر قید کی سزا ایران کی شرائط پر اتفاق کے بغیر مذاکرات میں کوئی پیش رفت ممکن نہیں، قالیباف اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد آگے، اکثریت سے محروم ایرانی حکام نے اسرائیل نواز نیٹ ورک کے 5 اراکین گرفتار کرلئے آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا امید ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت امن مذاکرات شروع کرے گی، فلسطینی صدر

روزانہ کی خبریں

ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر کوئی پابندی نہیں، ترجمان پاک فوج

ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر کوئی پابندی نہیں، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کو انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ محتاط امید کا رہا ہے۔ اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟۔ فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ اب بھی ایسے بااثر عناصر موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تنازع جاری رہنے میں ان کے مفادات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے سعودی عرب مزید فوج بھیجنے کا فیصلہ حالات اور سیاسی قیادت کے فیصلے سے مشروط ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیئے گئے انٹرویو مین ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایران کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت پر کوئی پابندی نہیں۔ جو بھی مکہ اتحاد میں شامل ہونا چاہتا ہے اسے خوش آمدید کہیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شمولیت کا فیصلہ تینوں فریقین نے کرنا ہے، اجتماعی دفاع،علاقائی امن کا حامی ملک اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے۔

Read More

امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای خیریت سے اور محسن رضائی کیساتھ رابطے میں ہیں

واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای زندہ اور خیریت سے ہیں اور محسن رضائی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور محسن رضائی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے خط اس شخصیت کے نام بھیجا گیا جو اس وقت آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے، یعنی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، درحقیقت یہ خط براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک پیغام ہے۔

ٹرمپ کی الیکشن کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی

واشنگٹن؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے ایم ایس ناؤ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے خلیجی عرب اتحادیوں کو ممکنہ فوجی کارروائی سے آگاہ کردیا ہے۔ رپورٹ میں تین سینئر خلیجی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چار نومبر سے ایران کے خلاف مختصر مگر شدید حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب امریکی اتحادی ممالک نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ممکنہ فوجی منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر کوئی پابندی نہیں، ترجمان پاک فوج

راولپنڈی : پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کو انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ محتاط امید کا رہا ہے۔ اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو مرتبہ تہران کیوں جاتے؟۔ فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ اب بھی ایسے بااثر عناصر موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تنازع جاری رہنے میں ان کے مفادات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے سعودی عرب مزید فوج بھیجنے کا