
ماں کی ڈائری۔۔۔
کل میں نے اپنے 10 سالہ بیٹے سے کہا ہمیں فلاں جگہ جانا ہے۔
اس نے سنتے ہی آنے سے انکار کردیا اور کہا مجھے وہاں جانا بالکل پسند نہیں۔وہاں سب کالے لوگ آتے ہیں۔
میں نے تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا: ایسا نہیں کہتے۔ کالے گورے میں کیا فرق ہے. سب اللہ کی مخلوق ہیں.
کہنے لگا نہیں مجھے اتنے ڈارک کالے پسند نہیں۔
میں نے کہا: آپ بھی تو سانولے ہو کون سا اتنے سفید ہو۔
کہنے لگا میں اتنا کالا نہیں جتنا وہ لوگ ہے اور مجھے اتنے ڈارک کالے لوگ بالکل پسند نہیں۔
مجھے اس کی باتوں پہ حیرت ہوئی۔ ہم نے آج تک گھر میں تعصبی باتیں نہیں کی یا خدا نخواستہ مذاق اڑایا ہو کہ یہ کالا ہے یہ گورا، یہ چھوٹے قد کا ہے اور یہ لمبا۔۔۔
میں نے کہا: اتنے غرور کی بات مت کرو۔ خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر مت سمجھو۔ انسان میں تواضع ہونی چاہیے۔
اسے نہ غرور سمجھ آیا نہ تواضع۔ کہنے لگا یہ کیا ہے مجھے نہیں پتا اور فل بحث کے موڈ میں تھا۔
مجھے غرور کی لال بتی جلتی ہوئی نظر آئی۔
لیکن میں اسے کیسے سمجھاتی؟ زہن میں پوری تقریر تیار ہونے لگی کہ کہوں رسول پاک (ص) نے حضرت بلال حبشی کے ساتھ کیسا برتاو کیا یا دین میں کالے گورے کا کوئی فرق نہیں برتری صرف اچھے انسان ہونے پر ہے لیکن میں نے محسوس کیا کہ یہ سب تقریر بے فائدہ ہے۔
ذہن میں آیا،
نوجوان لمبی لمبی نصیحتوں سے بیزاری دکھاتا ہے۔ لہذا رک جاؤں۔
میں ایک تقریر سے راتوں رات اس کی ذہنیت تبدیل نہیں کرسکتی۔
تربیت تدریجی عمل ہے۔ آہستہ آہستہ اسے اس نتیجے پہ پہنچنا ہوگا کہ ہم سب ایک ہیں اور ہم میں کوئی فرق نہیں۔ میں کون سا بچپن ہی سے اس نتیجے پہ پہنچی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں پتہ چلیں لہذا میں اس کے اس تعصب پر پریشان مت ہوں۔
اس موضوع کو وہیں ختم کردیا۔ وہ اپنے کاموں میں، میں اپنے کاموں۔۔۔
لیکن سوچ مشغول ہوگئی کہ اس کی سوچ کو کیسے وقتاً فوقتاً indirectly جہت دی جائے کہ سب کو اللہ کی معزز مخلوق کی نگاہ سے دیکھے۔
ایک آئیڈیا آیا
20 جمادی الثانی نزدیک ہے اور ہم ہر ولادت پر گھر کے اعضاء چھوٹا سا جشن مناتے ہیں. دل میں سوچا رسول پاک(ص) کی ایسی کہانیاں نکالوں جس میں انہوں نے کالے گورے، امیر غریب کا فرق مٹایا ہو اور بچوں کے درمیان اس میں سے کوئز مقابلہ رکھوں کہ وہ کہانیاں پڑھ کر ایک ذہنیت بن جائے اور وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ سمجھنے لگے کہ ہم سب ایک ہیں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں مگر تقوی کے۔
اور آخر میں
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے توسل کیا کہ
"اے میرے پیارے نبی! میں اپنے بچے کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دے رہی ہوں۔ آپ خود اس کی ہدایت کیجیئے۔ آپ نے آکر سب فرق مٹائے، سب کو برابری بخشی، میرے بیٹے کے ذہن میں سے بھی یہ فرق مٹا کر اس کے زاویہ نظر کو درست کیجیے۔”


































