
کیف : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کیلئے بڑے پیمانے پر سفارت کاری تیزکردی ہے۔یوکرینی صدر نے ایک ہی دن امریکی۔ فرانسیسی اور ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے کئے اور جنگی صورتحال پربات چیت کی۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اگلے ہفتے ہونے والے بین الاقوامی ایونٹس سے ہمیں اہم نتائج حاصل ہونے کی توقع ہے جس سے یوکرین میں صورت حال قابو میں آ جائے گی۔ جو بائیڈن نے کہا کہ واشنگٹن یوکرین کے دفاعی نظام کو بہتر بنانے کی کوششوں کو ترجیح دے رہا ہے۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے روس کے خلاف نئی پابندیاں لگانے اور یوکرینی فوج کی مدد کے لیے مزید فنڈنگ کی سفارش کردی۔ ادھر یوکرین نے روس کے زیر قبضہ قصبے میلی ٹوپول پر متعدد میزائل حملے کیے اور روس سے الحاق شدہ جزیرہ نما کریمیا کو نشانہ بنایا۔


































