
انقرہ : تُرک فوج کا کہنا ہے کہ شام میں آپریشن شروع کرنے کے لیےتیاری کرلی ہے اور اب صرف صدر کے حکم کا انتظار ہے۔ فوج کو شام میں زمینی کارروائی کے لیے صرف چند دن درکار ہیں۔ کابینہ اجلاس میں کارروائی کے متعلق فیصلہ ہوسکتا ہے۔ فوجی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شام میں ترکیہ کے حمایت یافتہ باغی جنگجوؤں کے بم حملے کے بعد سے ہی آپریشن کے لیے تیار ہیں۔ صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ترکیہ کو اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سرحد پار جا کر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے میں شام میں ترکیہ کے نئے فوجی آپریشن کی سخت مخالفت کی اور ملک میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے شمالی شام اور ترکیہ میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس میں حالیہ فضائی حملے بھی شامل ہیں۔ فاع لائیڈ آسٹن نے کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا اور شام میں ترکیہ کے نئے فوجی آپریشن کے خلاف محکمے کی شدید مخالفت کے بارے میں آگاہ کیا۔


































