
لاہور: پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تئیس دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کردیا۔ عمران خان نے دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی اور محمود خان کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کیا۔ عمران خان نے کہاکہ اگر موجودہ حکومت نے معیشت بہتر طور پر چلائی ہوتی توہم کہتے کہ یہ مدت پوری کرلیں لیکن یہ ڈیفالٹ کی طرف جا رہے ہیں، ڈر ہے کہ اکتوبر میں بھی یہ الیکشن نہیں کرائيں گے۔ کیوں کہ انہيں پتہ ہے کہ جب بھی الیکشن ہوں گے یہ ہار جائيں گے۔ الیکشن کمشنر بد دیانت آدمی ہے جو ان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں اسپیکر کے سامنے جاکر کہيں گے استعفیٰ قبول کرو۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے پھر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چلتی ہوئی اچھی بھلی حکومت کو بیرونی سازش سے ہٹانے کے پيچھے صرف ایک آدمی (ر)جنرل باجوہ ہے۔ حکومت گرنے پر عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے، عوام کے ہمارے ساتھ کھڑے ہونے پر باجوہ کو غلطی مان لینی چاہیے تھی وہ عقل کُل تو نہيں تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو این آراو ٹو جنرل (ر) باجوہ نے دیا۔
وفاقی وزیر برائے مںصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس پر ملک بھر میں یوم تشکر منائیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اور 90 دن میں الیکشن ہوتے ہیں تو ہم بہتر پوزیشن میں ہوں گے۔


































