
کابل: افغانستان میں طالبان نے قتل کے جرم میں سزایافتہ ایک شخص کو سرِعام موت سے ہم کنار کیا ہے۔طالبان نے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت پر سرعام عمل درآمد کی تصدیق کی ہے۔ فراہ صوبے کے اسٹیڈیم میں قتل کے ملزم تاج میرولد غلام سرورکو پھانسی دی گئی اس موقع پر طالبان رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں قصاص کی تشریح میں آنکھ کے بدلے آنکھ کے انصاف کا حوالہ دیا ہے اورکہا سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہم وطنوں کے عوامی اجتماع میں قصاص کے اس حکم پرعمل درآمد کرے۔ گذشتہ ماہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون کے ان پہلوؤں پرمکمل طورپرعمل درآمد کریں جن میں سرعام پھانسیاں دینا، سنگساری،کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا شامل ہیں۔


































