
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ عراق قدرتی اور انسانی دولت کے ساتھ ساتھ ثقافتی، تاریخی اور تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے خطے کا سب سے اہم عرب ملک ہے لیکن بدقسمتی سے اس پس منظر کے باوجود عراق ابھی تک اپنے بلند اور حقیقی مقام پر نہیں پہنچ سکا ہے۔ عراقی وزیراعظم شیاع سے تہران میں گفتگو کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ عراق کی ترقی میں ایسے دشمن موجود ہیں جو ظاہری طور پر دشمنی کا اظہار نہیں کر سکتے لیکن وہ آپ جیسی حکومت کو قبول نہیں کرتے اور آپ کو ان حوصلہ مند اور نوجوان قوتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کی مرضی کے خلاف ڈٹے رہنا چاہئے جنہوں نے داعش کے عظیم اور مہلک خطرے کے خلاف اپنا امتحان دیا۔ آپ نے کہاکہ آئین کے تحت ہم کسی بھی فریق کو ایران کی سلامتی میں خلل ڈالنے کے لئے عراقی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن بدقسمتی سے اب عراق کے کچھ علاقوں میں ایسا ہو رہا ہے ، اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ عراق کی مرکزی حکومت ان علاقوں میں بھی اپنا اختیار بڑھائے۔ انہوں نے کہاکہ عراق کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے، جس طرح ایران کی سلامتی بھی عراقی سلامتی کو متاثر کرتی ہے۔ عراق کی سلامتی کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کوئی فریق عراق کی سلامتی میں خلل ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم اس کے مقابلے میں حفاظت کریں گے اور عراق کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اور عراق کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے کے لئے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔


































