Thu Oct 08, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم

تہران : صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ روسی صدر نے امریکی اسرائیلی جارحیت کے سامنے ایران کی ’’تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی‘‘ کو سراہا۔ دونوں صدور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازعات کے باوجود مضبوط ہے اور مسلسل گہری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسٹریٹجک راستے پر گامزن رہنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جواب میں صدر پیوٹن
نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ خطے میں موجودہ حالات اور بدامنی کے باوجود تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون کا فریم ورک فعال طور پر جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔
روسی صدر نے دشمن کے حملوں کے مقابل ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے جس حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر توجہ اور پذیرائی حاصل کی ہے۔ خطے میں جاری بحران کے حوالے سے صدر پیوٹن نے بعض ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق روس سفارتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular