
تہران : صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ روسی صدر نے امریکی اسرائیلی جارحیت کے سامنے ایران کی ’’تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی‘‘ کو سراہا۔ دونوں صدور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران اور ماسکو کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازعات کے باوجود مضبوط ہے اور مسلسل گہری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسٹریٹجک راستے پر گامزن رہنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی نظام تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جواب میں صدر پیوٹن
نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ خطے میں موجودہ حالات اور بدامنی کے باوجود تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون کا فریم ورک فعال طور پر جاری ہے اور اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔
روسی صدر نے دشمن کے حملوں کے مقابل ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے جس حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر توجہ اور پذیرائی حاصل کی ہے۔ خطے میں جاری بحران کے حوالے سے صدر پیوٹن نے بعض ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق روس سفارتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔


































