سرکاری شخصیات پر پابندی پر فلپائن کا جواب، ا مریکی شہریوں کیلئے نرم کی گئی ویزہ پالیسی کو ختم کرنے کا فیصلہ، امریکی سفیر اور شہریوں کو ملک بدر کرنے کی دھمکی
امریکی ہمارے نظام اور قومی خودمختاری میں مداخلت کریں گے تو زیادہ سخت اقدامات کیے جائیں گے،امریکا ہمارے قوانین کا حترام کرے، فلپائن کا دو ٹوک موقف
منیلا(نیوز ڈیسک) فلپائن نے اعلیٰ سرکاری شخصیات پر پابندی کے جواب میں دو امریکی سینیٹرزکے ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی جبکہ ا مریکی شہریوں کیلئے نرم کی گئی ویزہ پالیسی کو ختم کر کے ویزے کے حصول کو سخت بنا دیا،فلپائینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنے انتہائی اقدامات سے باز نا آئی تو فلپائن میں امریکی سفیر اور شہریوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا،پابندیوں کی زد میں آنے والے دونوں امریکی سینیٹرز رچرڈ ڈربن اور پیٹرک لیہے نے اُن فلپائنی حکام پر سفری پابندیوں کی سفارش کی تھی جو فلپائن کی سماجی کارکن اور سینیٹر لیلا دی لیما کی غیر قانونی حراست کے ذمہ دار ہیں،فلپائن کے صدارتی ترجمان نے واضح کیا کہ فلپائن میں سیاحت کے لیے آنے والے امریکی شہریوں کو اب ایک مہینے کا مشروط ویزا دیا جائے گا، اگر وہ ہمارے نظام اور قومی خودمختاری میں مداخلت کریں گے تو اس سے بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے،واشنگٹن میں فلپائینی سفارتخانہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تمام خودمختار ممالک کو کسی کو بھی اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار ہے،ہم امریکا کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ ہمارے قوانین اورعمل کا اسی طرح احترام کرے جس طرح ہم ان کے قوانین کااحترام کرتے ہیں۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- فلپائن کا امریکا کو منہ توڑ جواب،2 سینیٹرز پر پابندی
فلپائن کا امریکا کو منہ توڑ جواب،2 سینیٹرز پر پابندی
-
Ilyas - جنوری 3, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 305
- 0 minute read


































