
Oplus_16908288
خصوصی رپورٹ:
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے امریکی عوام کے نام لکھا گیا خط، انقلابی اداروں اور دنیا بھر کے عوام کے درمیان رابطے کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ایسے روابط، جو اسلامی ایران کی میڈیا اثراندازی کے فقدان اور عوامی سفارت کاری کی کمزوریوں کے باوجود، خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس خط کی شاید سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک سرکاری ادارے نے حکومتوں کے بجائے عوام کو مخاطب کیا ہے۔ ایک فوجی ادارے نے جنگ کے دوران دشمن کی فوج اور اس کے حکمرانوں سے خطاب کرنے کے بجائے اس معاشرے سے گفتگو کی ہے جو امریکی حکومت کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔ یہی پہلو اس خط کو محض ایک فوجی بیان سے آگے لے جا کر عوامی سفارت کاری کی ایک دستاویز میں تبدیل کرتا ہے۔
اس سے قبل بھی سپاہ پاسداران نے خطے کے ان اسلامی ممالک کے عوام کے نام بیانات جاری کیے تھے جہاں امریکی فوجی اڈے قائم ہیں، اور ان کے لیے سپاہ کی جانب سے ان اڈوں پر کیے جانے والے فوجی حملوں کے اہداف کی وضاحت کی تھی۔ مغربی ممالک کے عوام بھی اس سے قبل مختلف مواقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے پیغامات کے مخاطب رہے ہیں، جن میں انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے مغربی نوجوانوں کے نام جاری کیے گئے دو پیغامات، نیز بعض صدور کی جانب سے امریکی عوام سے براہِ راست خطاب کے لیے لکھے گئے خطوط اور کیے گئے مکالمے شامل ہیں۔
یہ میڈیا اقدامات اگرچہ قابلِ قدر ہیں اور ان کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، تاہم ان کے لیے رائے اور ردِعمل حاصل کرنا، کمزوریوں کا جائزہ لینا اور طریقۂ کار میں اصلاح بھی ضروری ہے، تاکہ یہ پیغامات زیادہ درست انداز میں اپنے ہدف تک پہنچ سکیں اور ان کے ٹھوس اثرات آئندہ اقدامات اور اگلے مرحلوں کے لیے بنیاد فراہم کرسکیں۔
یہ خط محض ایک بیان یا عمومی خطاب سے کہیں آگے ہے۔ یہ 26 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی متن ہے، جسے بظاہر امریکی اشرافیہ اور بااثر طبقات کے لیے ایک منشور اور مرجعی مواد کے طور پر تیار کیا گیا ہے، تاکہ امریکی جارحانہ پالیسیوں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ ملک میں احتجاجی تحریکوں کی سیاسی زبان پر بھی اثرانداز ہوسکے۔
خصوصاً یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ خط ابتدا میں ’’ریاستہائے متحدہ امریکہ کے تمام شریف عوام‘‘ کے نام لکھا گیا ہے، تاہم اس میں سائنس دانوں، طلبہ اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد پر خصوصی توجہ غالباً اسی حکمتِ عملی کی علامت ہے۔
اس خط کے بارے میں سپاہ پاسداران کے ترجمان کی وضاحتوں سے بھی ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے اجراء کا مقصد محض ایک تشہیری اقدام یا میڈیا فضا سازی نہیں ہے، جسے مختصر پیغامات کے ذریعے انجام دیا جاسکے، بلکہ مقصد ایسا منطقی اور ہمدردانہ مواد تیار کرنا ہے جسے امریکی دانشوروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد اپنی سرگرمیوں کے لیے بنیاد بنا سکیں اور جو مؤثر ایرانی ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں مخالف فریق کے میدانِ ابلاغ میں بھی پھیلایا جاسکے۔
اگرچہ خط موجودہ صورتِ حال کی عکاسی میں مکمل طور پر یک طرفہ انداز اختیار کرتا ہے اور اس میں قائل کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ نمایاں نہیں، تاہم بظاہر یہ ناراض امریکی سامعین کے لیے جنگ کی کہانی اور اس کی تشریح پر قائم اجارہ داری کو متاثر کرسکتا ہے اور انہیں اپنے مؤقف سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
سپاہ اس خط میں یہ تاثر ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ ایران کی دشمنی امریکی عوام کے ساتھ ہے، اور امریکی عوام اور اس ملک کے حکمرانوں کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ خط میں ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے کا مفہوم امریکی عوام کی موت نہیں بلکہ جنگ پسندی اور اس حکومتی جارحیت کے خلاف احتجاج قرار دیا گیا ہے جس کی قیمت خود امریکی عوام بھی ادا کرتے ہیں۔ اس نوعیت کی زبان جنگ کی لاگت اور اس کے اثرات کو خارجہ پالیسی کے مسئلے سے نکال کر امریکہ کے اندرونی مسئلے میں تبدیل کرسکتی ہے۔
خط کا آغاز امریکہ کے ساتھ جاری سات ماہ کی جنگ کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس میں ایران کی کامیابی اور امریکہ کی جانب سے اپنے اہداف حاصل نہ کر پانے کے عوامل بیان کیے گئے ہیں اور اس جنگ میں ایران کی کامیابیوں کو شمار کیا گیا ہے۔
تاہم خط صرف اسی جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ 28 مرداد (ایرانی مہینہ) کی بغاوت سے لے کر آج تک امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی دشمنی کی بنیادوں اور دنیا بھر میں امریکی جارحیتوں کی تاریخ بھی بیان کرتا ہے، اور ان عوامل کی جڑیں امریکی طرزِ حکمرانی میں واض کرتا ہے۔
اگرچہ امریکی حکمران طبقے کو ان جرائم کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، تاہم خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سے موجودہ حکمرانوں کے انتخاب میں امریکی عوام کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ امریکی ووٹر اپنی خارجہ پالیسی کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں ڈال سکتا۔ چنانچہ امریکی عوام اس ملک کی پالیسیوں میں تبدیلی کے آغاز کا نقطۂ آغاز بن سکتے ہیں۔
خط میں واضح طور پر امریکی عوام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں کے انتخاب پر نظرِ ثانی کریں، تاکہ 800 فوجی اڈوں اور جاسوسی کے نیٹ ورک کو ختم کرکے، اسرائیل کے لیے لامتناہی امداد روک کر، مسلسل اور بے نتیجہ جنگوں سے گریز کرتے ہوئے اور وسائل کو تحقیق، پیداوار اور عوامی خدمات کی جانب منتقل کرکے پُرامن بقائے باہمی کے امکانات پیدا کیے جاسکیں اور خود امریکی عوام بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔

































