
ایرانی بلوچستان کے علاقے خاش میں شیعہ۔سنی وحدت کے داعی و اسلامی انقلاب کے ممتاز حامی اہلسنت امام جمعہ مولود عبدالواحد ریگی کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں خاش کے پراسیکیوٹر شمس آبادی نے مسجد امام حسین (ع) کے اہلسنت امام جمعہ مولوی عبدالواحد ریگی کے اغواء اور شہادت کی کارروائی سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کے روز وہ مسجد میں موجود تھے کہ پچھلے دروازے سے داخل ہونے والے نامعلوم افراد نے انہیں بلایا اور فی الفور بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں زبردستی بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ شمس آبادی نے میڈیا کو بتایا کہ مولوی عبدالواحد ریگی کے اغواء کے فورا بعد ہی صوبائی پولیس کی جانب سے متعدد ٹیمیں تشکیل دے کر ان کی بازیابی کے لئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا تاہم افسوس ہے کہ اغواء کاروں کی جانب سے انہیں اٹھانے کے فوراً بعد ہی شہید کر دیا گیا تھا۔ خاش کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مولوی عبدالواحد کی شہادت کی تصدیق شہر کی ایک نواحی سڑک سے ان کی لاش کی برآمدگی کے بعد کی گئی ہے جبکہ انہیں سر اور گردن میں 3 گولیاں ماری گئی تھیں۔
واضح رہے کہ خاش کے امام جمعہ شہید مولوی عبدالواحد ریگی ایک انقلابی شخصیت اور اتحاد بین المسلمین کے ممتاز داعی تھے جبکہ امریکہ و اسرائیل کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کے ساتھ عدم ہمراہی کے باعث وہ ہمیشہ ان کی ہٹ لسٹ پر رہتے تھے۔ رہبر انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے لئے خصوصی نمائندے کے ساتھ ملاقات میں شہید مولوی عبدالواحد ریگی کا کہنا تھا کہ ہم منافقوں و دشمنوں کی سازشوں اور گھناؤنے منصوبوں سے اچھی طرح واقف ہیں جبکہ اسلام، اسلامی نظام حکومت، ایران اور شیعہ سنی وحدت کے علاوہ ہماری کوئی دوسری بات نہیں! ان کا کہنا تھا کہ ہم رہبر انقلاب اسلامی سے محبت رکھتے ہیں جبکہ یہ مملکت، اسلامی نظام حکومت کے بغیر ہمارے ہی کسی کام کی ہے اور نہ ہی دین اسلام و حتی ناموس مسلمین کے کسی کام کی! اس موقع پر انہوں نے وحدت مسلمین کے اپنے موقف کے باعث متعدد دہشتگرد گروہوں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی تھی کہ وہ شخص جو اپنی دینی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت نہیں کر سکتا "ناموس” نہیں رکھتا!


































