
مناما :بحرین میں گیارہ سال سے غیر قانونی اسیر 74 سالہ اپوزیشن رہنما حسن مشیمع علاج کی سہولت فراہم نہ کرنے پر شہید ہوگئے۔ حق موومنٹ فار سول لبرٹیز اینڈ ڈیموکریسی کے سیکریٹری جنرل حسن مشیمع اپریل 2011 سے جیل میں قید تھے۔خرابی صحت کے باوجود آل خلیفہ حکومت نے انہیں رہا کرنا تو درکنار علاج کی سہولت تک فراہم نہیں کی۔ اور وہ اسی حالت میں خالق حقیقی سے جاملے۔ حزب اختلاف نے جیل میں بند انسانی حقوق کے کارکنوں اور جمہوریت کے حامیوں کے خلاف سخت اقدامات پر آل خلیفہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔14 یوتھ کولیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ آل خلیفہ حکومت ممتاز اپوزیشن شخصیت کے خلاف جان بوجھ کر طبی غفلت برت رہی ہے۔ایک بزرگ اور تجربہ کار سیاسی مخالف کو مناسب ادویات اور علاج نہیں ملا ہے حالانکہ وہ دائمی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ جیل حکام نے ان کی صحت کی دیکھ بھال اور مطلوبہ علاج حاصل کرنے کے حق کو نظر انداز کیا ہے۔ انہوں نے اہلخانہ کو بھی ان سے ملنے سے روک دیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات جبر کی اس حد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت حزب اختلاف کی شخصیات کے خلاف مشق کر رہی ہے۔


































