
امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ اس نے انصاراللہ یمن کے خلاف جنگ شروع کر کے ایک بار پھر ماضی کی دلدل میں قدم رکھ دیا ہے۔ یہ اخبار لکھتا ہے: "انصاراللہ یمن کی جانب سے ایک ہی رات میں آبنائے باب المندب پر مکمل کنٹرول قائم کر لینا ایک حیرت انگیز کامیابی ہے جس کے بعد ایسے واقعات کا سلسلہ رونما ہوا جنہوں نے یمن کو عالمی اثرات کی حامل جنگ میں داخل کر ڈالا ہے۔ سعودی عرب نے امریکہ سے درخواست کی تھی کہ وہ یمن کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں ایک نیا محاذ کھولنے سے گریز کیا اور سعودی عرب سے محض انٹیلی جنس تعاون پر ہی اکتفا کیا ہے۔ اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2022ء میں جنگ بندی کے بعد یمن کے حوثیوں نے فوجی شعبے میں خود کو بہت زیادہ طاقتور بنایا ہے اور اب وہ جدید ترین میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے لیس ہو چکے ہیں۔ لہذا اب سعودی عرب کی جانب سے انصاراللہ یمن کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کر کے بہت بڑی غلطی کی گئی ہے گویا سعودی عرب ماضی کی دلدل میں دوبارہ داخل ہو چکا ہے۔ انصاراللہ یمن جنگ کے اگلے مراحل میں ایسے حملے انجام دے گی جو سب کو حیرت زدہ کر دیں گے کیونکہ اب وہ جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکی ہے۔ انصاراللہ یمن نے اپنے خلاف جاری سعودی محاصرہ ختم کرنے کے لیے سعودی عرب کے بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی لگائی ہے اور سعودی عرب فوجی طاقت کے بل بوتے پر آبنائے باب المندب نہیں کھلوا سکتا۔”


































