Fri Oct 09, 2026

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ

روزانہ کی خبریں

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

In this photo released on Monday, March 15, 2021, by Sepahnews, missiles are shown in an underground storage facility in an undisclosed location, Iran. Iran’s paramilitary Revolutionary Guard on Monday inaugurated a new underground facility designated for missile storage. Since 2011, Iran has boasted of underground facilities across the country as well as along the southern coast near the strategic Strait of Hormuz. (Sepahnews via AP) A

تہران: ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ جاری رکھنے کیلئے ہمارے پاس اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت ایک طویل اور مسلسل جنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے رضا طلائی نیک نے کہا کہ ایران کے پیداواری نظام میں اس وقت طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے درکار اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران اسلحے کی پیداوار جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں ڈھائی گنا بڑھ گئی۔ ان کے مطابق ایران نے پہلے ہی متبادل اور محفوظ پیداواری مقامات تیار کر رکھے تھے اور فوجی سازوسامان کی پیداوار ایک دن کے لیے بھی نہیں رکی۔ رضا طلائی نیک نے کہا کہ جنگ کے دوران تقریباً 9 ہزار کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر فوجی سازوسامان کی تیاری کی کوششوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت دفاع کا عملہ میزائل داغنے والی ٹیموں، ڈرون یونٹس، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ میدانِ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو بہتر بنایا جا سکے۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ایران کی پہلی ترجیح اپنی فوجی ضروریات پوری کرنا ہوگی، تاہم ملک اضافی دفاعی مصنوعات برآمد کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اور مستقبل میں برآمدات کے لیے اضافی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں.

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular