
Oplus_16908288
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
عراق خوش ہے، عراق جشن میں ہے، عراقی عوام روایتی انداز میں سڑکوں پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔ آپ ٹی وی لگائیں تو ہر طرف یہی مناظر ہیں۔ عراقی سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کے شور نے بغداد جشن مناتے لوگوں کی رونق میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ جشن بنتا ہے، کیونکہ استعماری افواج کو اپنے ملک سے نکالنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ استعمار خود ساختہ بہانے بنا کر وسائل لوٹنے کے لیے مختلف اقوام پر حملہ آور ہوتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تھا، امریکی طیاروں کی بمباری بغداد کو تباہ کر رہی تھی۔ دنیا بھر میں اس بربریت کے خلاف انسان دوست سڑکوں پر تھے۔ جبر کو انسانی آوازوں کی کبھی قدر نہیں ہوتی، اس لیے انہیں اس وقت بھی نظر انداز کیا گیا۔ آج دنیا اہل عراق کا جشن دیکھ رہی ہے، یقیناً امریکی عوام بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ کیسے امریکی جبر کے خاتمے پر اقوام جشن مناتی ہیں۔
امریکی قبضے کا یہ 23 سالہ دور انتہائی سفاک دور تھا۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں اس دور کی بربریت کو واضح کیا گیا ہے۔ ابتدا میں 35 ممالک کے 136500 فوجی امریکی قیادت میں عراق پر حملے شریک ہوئے۔ 9 اپریل 2003ء کو امریکی فوج بغداد میں داخل ہوئی۔ 2004ء فلوجہ اور نجف سمیت کئی علاقوں میں امریکی فوج کو شدید مسلح مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ عراق جنگ کے خونریز ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 2007ء میں امریکا نے 30000 اضافی فوجی عراق بھیجے۔ 2007ء میں عراق میں امریکی فوج کی بلند ترین تعداد تقریباً 170000 تک پہنچ گئی۔ 2010ء تقریباً 90000 امریکی فوجی عراق سے واپس گئے۔ 2021ء میں امریکی فوجیوں کی تعداد گھٹ کر 2500 رہ گئی۔ 2024ء میں بغداد اور واشنگٹن نے داعش مخالف فوجی مشن کے خاتمے اور مرحلہ وار انخلا پر اتفاق کیا۔ جس کے نتیجے میں آج 30 ستمبر کو آخری 2500 امریکی فوجی عراق سے چلے گئے۔
مگر جنگ کی اصل قیمت کیا ہے؟ عراق میں کتنے لوگ اس امریکی بربریت کا شکار ہوئے۔؟ 2003ء کے بعد 200065 سے 226628 شہری شہید ہوئے۔ یہ دستاویزی شہری شہادتیں ہیں اور حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے Costs of War کے مطابق مارچ 2023ء تک 186694 تا 210038 شہری شہادتیں ہوئیں۔ 48337 تا 52337 عراقی فوج و پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ 36806 تا 43881 مخالف جنگجو ہلاک ہوئے۔ 4599 امریکی فوجی ہلاک اور 3650 امریکی کنٹریکٹرز ہلاک ہوئے۔ یعنی براہِ راست جنگی اموات کا مجموعی تخمینہ 280771 سے 315190 تک پہنچتا ہے۔ یہ بہت ہی محتاط اندازے ہیں کہا جاتا ہے کہ اس امریکی بربریت میں ایک ملین سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ یہ نارمل قید نہ تھی، آپ ابوغریب کو تو نہیں بھولے ہوں گے۔ عراقی قیدیوں پر کتے چھوڑے جاتے تھے اور قیدیوں پر پیشاب کیا جاتا تھا۔ انسانی حقوق کے نعرے لگانے والوں کا دور جدید میں سیاہ کردار ہے۔
یہ جنگ استعمار کو بہت مہنگی پڑی۔ براؤن یونیورسٹی کے مطابق 2003ء سے 2023ء تک عراق اور شام کی امریکی جنگوں کی مجموعی لاگت، موجودہ اخراجات اور سابق فوجیوں کے مستقبل کے اخراجات سمیت، تقریباً 2.89 ٹریلین ڈالر تھی۔ یعنی تقریباً تئیس ہزار ارب ڈالر۔ یہی جنگی مزاج امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بناتا ہے۔ یہی جنگی جنون امریکہ میں جنگ پسند لوگوں کو جنم دیتا ہے، جو جنگوں کو تجارت اور اسلحہ کی فروخت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ ہزاروں ارب ڈالر اسلحہ کے تاجروں کی جیب میں گئے۔ آپ خود سوچیں، جن لوگوں کو ایک جنگ کے نتیجے میں تئیس ہزار ارب ڈالر کی تجارت ملے، وہ جنگیں ختم ہونے دیں گے۔؟ وہ اس آواز کو دبا دیں گے، جو ان کے مالی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ اسی لیے بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں امریکہ میں لابنگ کرتی ہیں، یہ ایسے امیدواروں کو منظر عام پر لاتے ہیں، جو ان کے مالی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
امریکہ اتنا اچھا نہیں ہے کہ اس نے یہ سارا خرچہ اپنی جیب سے کیا ہو۔ امریکہ نے عراق کے مالی و قدرتی وسائل کو بھی خوب لوٹا۔ کسی نے خوب لکھا ہے، جہاں تیل وہاں امریکہ۔ عراق کی اہمیت بھی اسی لیے ہے کہ کیونکہ ان کے پاس خام تیل کے ثابت شدہ ذخائر 145 ارب بیرل ہیں، اتنا حساب لگا لیں کہ 2024ء میں عراق میں خام تیل کی پیداوار اوسط یومیہ 44 لاکھ بیرل تھی، رائٹرز کی تازہ رپورٹ کے مطابق عراق تیل سے حاصل ہونے والی ڈالر آمدن عراقی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ کے ذریعے امریکی فیڈرل ریزور بینک آف نیویارک میں رکھواتا ہے۔ امریکی فوجی موجودگی عراق سے ختم ہوگئی ہے اور عراق فوجی قبضے سے آزاد ہوگیا، مگر ابھی سفر بہت لمبا ہے، امریکی پنجوں سے مالی آزادی کو بھی حاصل کرنا ہوگا۔ امریکہ ہر صورت میں اقوام کو اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتا ہے۔
ڈالر کی معیشت میں مرکزی کردار اس کے پاس ہے۔ اس لیے عراق کا اپنا پیسہ جو اس نے تیل بیچ کر کمایا ہے، وہ پہلے امریکہ کے مرکزی بنک میں جاتا ہے، وہاں سے عراقی حکومت کو اس کی درخواست پر ملتا ہے۔ عراقی حکومت کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ ہم اپنا پیسہ فلاں مقصد کے لیے لے رہے ہیں اور یہ اسی میں خرچ ہوگا۔ اس درخواست کے بعد امریکی محکمہ خزانہ کی منظوری ہوتی ہے، یہ ہونے بعد عراق کے اپنے پیسے اسے ملتے ہیں۔ عراق کو اپنے فیصلے خود کرنے کے لیے مالی خود مختاری اور آزادی حاصل کرنا ہوگی۔ جب عراق مالی خود مختاری حاصل کر لے گا تو آزادی مکمل ہوگی۔ آج کا جشن امریکی قبضہ کے خاتمے کا جشن ہے اور آنے والا وقت امریکہ سے مالی آزادی کا وقت ہوگا۔

































