
بغداد : عراق نے 23 سال بعد امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ عراقی وزیراعظم کے سکیورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے کہا کہ یہ پیش رفت اتحادی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی جانب منتقلی کی علامت ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ جولائی 2021 میں شروع ہونے والے مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی فوج نے اس ماہ کے اختتام تک عراق میں اپنے باقی ماندہ اڈوں اور مقامات سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے مرحلے میں عراق کی خودمختاری کو مستحکم کرنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ قاسم الاعرجی نے داعش کے خلاف فتح کا کریڈٹ عراقیوں کی قربانیوں اور مختلف شاخوں اور دستوں پر مشتمل ہماری مسلح افواج کی بہادری کو دیا۔ جبکہ بین الاقوامی اتحاد اور برادر و دوست ممالک کی حمایت کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اتحادی مشن کا خاتمہ شراکت داری کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کے رکن ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی طرف منتقلی ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون، معلومات اور تجربات کا تبادلہ، اور استعدادِ کار بڑھانے کی کوششیں باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔
امریکی محکمہ جنگ نے بھی بدھ کو کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراق میں آپریشن انہیرنٹ ریزولو باضابطہ طور پر مکمل کر لیا ہے، جبکہ اتحادی افواج اور فوجی سازوسامان کی اربیل ایئر بیس سے منظم روانگی نے فوجی مشن کے اختتام کی نشاندہی کی۔ پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ یہ سنگِ میل جنگ کے زمانے میں قائم اتحادی مشن سے عراقی قیادت میں سکیورٹی کی کوششوں کی طرف منتقل اور ایک معمول کے دوطرفہ سکیورٹی تعلق کی جانب پیش رفت ہے۔

































