
تحریر: عاطفہ عرفانی
برسوں سے صہیونی حکومت کو خطے کی ایک برتر طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے؛ ایسی حکومت جس کے بارے میں یہ تصور دیا گیا کہ وہ اپنی فوج، ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس نظام کے سہارے مغربی ایشیا کے ہر توازن کو مغرب کے حق میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن جب شور و غوغا ایک طرف رکھ کر اس حکومت کے طویل المدت طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ اسرائیل ایک خودمختار طاقت ہونے کے بجائے ایک انحصار رکھنے والی طاقت زیادہ دکھائی دیتا ہے؛ ایسی طاقت جو اپنے محدود رقبے، کم گہرائی اور ساختی کمزوریوں کی تلافی کے لیے فوجی برتری، پیشگی کارروائیوں، عارضی اتحادوں اور بالآخر امریکی حمایت پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہاں تک کہ جسے "اسرائیل کی عظیم حکمتِ عملی” کہا جاتا ہے، اسے بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے: قریبی خطرات کو طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنا، علاقائی ماحول کو محدود پیمانے پر اپنے حق میں تشکیل دینا اور عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے ساتھ اپنے تعلق کو برقرار رکھنا۔ یعنی ایک ایسی ریاست جو اپنی بقا اور حیثیت برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اپنے اردگرد کے ماحول کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور ساتھ ہی اسے یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ اس کے بنیادی حامی کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں۔ یہ کسی علاقائی سپر پاور کی تصویر نہیں، بلکہ ایسی ریاست کی تصویر ہے، جو اپنی محدودیتوں کی تلافی فوجی طاقت اور بیرونی حمایت کے ذریعے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران ایک ایسا موجود ہے، ایک ایسا ملک ہے، جس کی طاقت صرف چند ہتھیاروں یا جدید فوجی قوت تک محدود نہیں۔ ایران کا جغرافیہ، آبادی، وسیع زمینی گہرائی، توانائی کے وسائل، جغرافیائی و سیاسی محلِ وقوع اور دفاعی و علاقائی صلاحیتیں، طاقت کے ایسے متعدد عناصر کو تشکیل دیتی ہیں، جن میں سے بہت سے عناصر صہیونی حکومت کو بنیادی طور پر حاصل نہیں۔ ایران کو اپنی بقاء کے لیے خود کو ایک محدود جغرافیے کی دیواروں کے پیچھے محصور کرنے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ اسے ایسی جغرافیائی حیثیت حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے اردگرد کے علاقائی حالات اور توازنات پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
یہاں پر "حقیقی طاقت” اور "طاقت کی تصویر سازی” کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اسرائیل کو طاقتور نظر آنے کے لیے مسلسل اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، جبکہ ایران کی طاقت باہم مربوط متعدد عناصر کے مجموعے میں پوشیدہ ہے۔ صہیونی حکومت اپنی ساختی کمزوریوں کی تلافی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتی ہے، جبکہ ایران نے تمام تر محدودیتوں اور دباؤ کے باوجود اپنی طاقت کو داخلی صلاحیتوں اور متنوع بیرونی تعلقات کی بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ لہٰذا اگر صہیونی حکومت کی حکمتِ عملی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ایک چھوٹی ریاست طاقت، ٹیکنالوجی، اتحاد اور بیرونی حمایت کو یکجا کرکے اپنے لیے ایک بڑی طاقت کا کردار کیسے تشکیل دے سکتی ہے، تو ایران کا مطالعہ ایک اور سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے: ایک ایسا ملک جس کے پاس اتنی وسیع جغرافیائی و سیاسی اور تزویراتی صلاحیتیں موجود ہوں، اگر وہ ان صلاحیتوں کو ایک مربوط اور طویل المدت حکمتِ عملی کے تحت ایک دوسرے سے جوڑ دے تو اس کی حقیقی طاقت کس سطح تک پہنچ سکتی ہے۔؟
شاید اصل مسئلہ یہی ہے؛ صہیونی حکومت برسوں سے طاقت کے مظاہرے کے ذریعے اپنی محدودیتوں کو چھپانے کی کوشش کرتی رہی ہے، جبکہ ایران کو ایک مؤثر علاقائی طاقت بننے کے لیے محض طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اپنی موجودہ صلاحیتوں کو منظم کرنے اور انہیں عملی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ صہیونی حکومت کا پروپیگنڈہ اور شور و غوغا شاید بہت بڑا ہو، لیکن شور کی بلندی کو طاقت کی عظمت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ ایسے خطے میں جہاں جغرافیہ اور تاریخ کی حقیقتیں آج بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہیں، ایران کی طاقت اس تصویر سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جو تل ابیب اور اس کے حامیوں نے اپنے بارے میں تشکیل دے رکھی ہے۔

































