
بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے کر تفتیش کاروں کو یرغمال بنا لیا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا۔ بنوں میں رات گئے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔
تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا کہ صورتحال قابو میں ہے اور سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کر دیا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے چلائی جانے والی سہولت پر حراست میں لیے گئے عسکریت پسند لاک اپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔
ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہوا جس میں مبینہ طور پر ایک عسکریت پسند نے ایک سیکیورٹی اہلکار پر بندوق تان کر اسے پکڑ رکھا ہے۔
مبینہ عسکریت پسندوں نے افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا۔


































