
نئی دہلی : بھارتی حکومت نے مذہب کی تبدیلی کو مذہبی آزادی کا بنیادی حق ماننے سے انکار کردیا۔ بھارتی سپریم کورٹ میں مذہب کی تبدیلی سے متعلق درخواست پر حکومت نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے، مرکزی وزارت داخلہ نے لکھا کہ درخواست گذار نے دھوکا دہی، لالچ اور زبردستی مذہب کی تبدیلی کے معاملات کو درست انداز میں اٹھایا ہے۔ مذہبی آزادی کے حق میں دھوکادہی، لالچ اور زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا حق شامل نہیں ہے۔ مرکز نے لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 میں شامل لفظ تبلیغ کو مذہب کی تبدیلی کا حق تصور نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ یہ مذہب کو پھیلانے کے مثبت حق کی نشاندہی کرتا ہے۔ دھوکا دہی یا لالچ سے مذہب کی تبدیلی نہ صرف فرد کے ضمیر کی آزادی کے حق پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ امن عامہ کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لئے اس کی روک تھام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ درخواست گذار نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی کہ مذہب کی تبدیلی کے سلسلے کو نہ روکا گیا تو ملک میں ہندوؤں کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔ لہذا عدالت حکومت کو اس حوالے سے اقدامات کی ہدایات جاری کرے۔


































