
کسان مخالف پالیسیوں اور ایم ایس پی و قرض معافی کو لے کر کسانوں نے ایک بار پھر تحریک شروع کر دی ہے۔ دہلی کے ٹیکری بارڈر پر 10 دسمبر کو نہ صرف کسانوں نے اپنی تحریک کا از سر نو آغاز کیا ہے، بلکہ ایم ایس پی نافذ کرنے اور مکمل قرض معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ’چنڈی گڑھ کوچ‘ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ دراصل کسانوں نے ہریانہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو دیکھتے ہوئے چنڈی گڑھ پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ گویا کہ بجٹ اجلاس کے دوران کسان تحریک ہریانہ کی کھٹر حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔ ٹیکری سرحد پر کسان لیڈران نے ہریانہ اسمبلی کے گھیراؤ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر کسان اپنے مطالبات سامنے رکھیں گے۔ اتنا ہی نہیں کسان لیڈران نے اپنے آگے کے منصوبوں کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ 24 تاریخ کو ہونے والی سنیوکت کسان مورچہ کی میٹنگ میں 26 جنوری کے دن کسان بڑی سطح پر مظاہرہ کا اعلان بھی کر سکتے ہیں۔ کسان لیڈر مندیپ نتھوان نے کہا کہ ایم ایس پی کے مطالبہ کو لے کر ابھی تو وہ چنڈی گڑھ میں اسمبلی کے گھیراؤ کی تنبیہ کر رہے ہیں، لیکن ایم ایس پی کا مطالبہ پورا کروانے کے لیے کسانوں کو اگر لال قلعہ تک جانا پڑا تو بھی کسان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کسان قرض کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے اس لئے حکومت سے کسانوں کا مکمل قرض معاف کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔


































