Fri Feb 23, 2024

امریکا اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی پر اکسا رہا ہے، سربراہ انصار اللہ نیویارک میں فلسطین کے حامی ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی اسرائیل کے وحشیانہ حملے، 40 فلسطینی شہید، 100 سے زائد زخمی حماس کا عالمی عدالت انصاف میں آواز اٹھانے والے تمام ممالک کے بیانات کا خیر مقدم مسلم دنیا جلد ہی صیہونی سرطانی پھوڑے کی تباہی کا مشاہدہ کرے گی، ولی امر مسلمین گجرات حکومت کا 108 مزارات گرانے کا اعتراف یمنی فوج کا حملہ، برطانوی جہاز میں آگ لگ گئی فلسطینی مجاہدین کا شہادت پسندانہ حملہ، صیہونی آبادکار ہلاک، 8 زخمی برطانوی پارلیمنٹ کا اجلاس، جنگ بندی کی قرارداد پر مچھلی بازار بن گیا انتخابات میں مبینہ دھاندلی، بانی پی ٹی آئی آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے اسرائیل کی غزہ میں مکمل فتح ممکن نہیں،55 فیصد اسرائیلیوں کی رائے غزہ پر اسرائیل کے وحشانہ حملے جاری، مزید 25 فلسطینی شہید اسرائیل کی تمام خلاف ورزیوں کا بہترین حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے، روس اسرائیل نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا جی 20 ممالک غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالیں، سعودی وزیرخارجہ

روزانہ کی خبریں

عمران خان کا صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے راولپنڈی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے نکلا تو سفر کرنے سے منع کیا گیا، نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھیں، کوئی بھی ڈر کر،چھپ کر،بھاگ کر موت سے نہیں بچ سکتا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اتنی دیر انتظار کروانے پر معذرت خواہ ہوں، ابھی بھی کئی لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، لاہور سے نکلا تو سفر کرنے سے منع کیاگیا، کہا گیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے، فائرنگ سے گرا تو اوپر سے اور گولیاں گزریں، کنٹینر پر 12 لوگوں کو گولیاں لگیں، فیصل جاوید اور احمد چٹھہ کو گولیاں لگیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیر آباد حملے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ معظم کو نیچے والے ملزم کی نہیں دوسرے شوٹر کی طرف سے گولی ماری گئی، ان کا پلان تھا نیچے گولی چلانے والے کو اسی وقت ختم کر دیں گے، مجھے ایجنسیز کے اندر سے خبریں آئی تھی، یہ پہلےمیرے خلاف مذہب کے حوالے سے پروپیگنڈا کریں گے، پھریہ کہیں گے کسی مذہبی جنونی نے قتل کردیا، مجھے ان کے پلان کا پہلے ہی پتا تھا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اپنے آپ کو موت کے خوف سے آزاد کریں، 26 سالہ سیاست میں مجھے ذلیل کرنے کیلئے انہوں نے کوئی موقع نہیں چھوڑا، عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی آپ کو ذلیل نہیں کرسکتا، کبھی اتنے لوگ کسی وزیراعظم کیلئے نہیں نکلے جتنے میرے لئے نکلے، صرف آزاد لوگ بڑے کام کرتے ہیں، آزاد قوم اوپر جاتی ہے، مجھے موت کی فکر نہیں تھی مگر میری ٹانگ نے میری مشکلات بڑھا دیں، آج قوم اہم موڑ پر کھڑی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، ہمارے ملک میں کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں آئی، پاکستان میں ہمیشہ طاقت کے بل بوتے پر فیصلے ہوتے رہے، مدینہ کی ریاست میں عدل وانصاف اور قانون کی حکمرانی تھی، غریب ملکوں میں صرف چھوٹا چور جیل جاتا ہے۔ صرف آزاد انسان ہی بڑے کام کرتے ہیں، غلام صرف اچھی غلامی کرتے ہیں ان کی پرواز نہیں ہوتی، مجھے موت کی فکر نہیں تھی، میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں آپ آج فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، آج قوم کے پاس دو راستے ہے، ایک طرف نعمت، عظمت، دوسری طرف تباہی، غلامی، ذلت کا راستہ ہے، مولانا رومیؒ نے کہا تھا جب اللہ نے تمہیں پر دیئے تو کیوں چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہو، پاکستانیوں چیونٹیوں کی طرح رینگنا ہمارا مستقبل نہیں، پہلے جن کو چور کہا گیا اگلے دن بند کمروں میں انہیں این آر او دے دیا جاتا ہے۔
مدینہ کی ریاست میں پہلے عدل اور انصاف قائم کیا گیا، مدینہ کی بنیاد ہی عدل اور انصاف تھی۔ تحریک انصاف کے چئیرمین نے کہا کہ 3 مجرموں نے سازش کرکے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، غریب ممالک میں انصاف نہیں ہے، زرداری، نوازشریف جیسے ڈاکو پیسہ باہر لے جاتے ہیں پکڑے نہیں جاتے، یورپ، برطانیہ میں انصاف کی وجہ سے خوشحالی ہے، پاکستانی اسی لیے یورپ، برطانیہ جاتے ہیں، غریب ممالک کے صدر، وزیراعظم پیسہ چوری کر کے باہر لیجاتے ہیں، پاکستان میں امیر اور غریب کا فرق بڑھتا جارہا ہے، اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں قانون کی حکمرانی کا نہ ہونا ہے، ملک میں مارشل لا قانون توڑ کر لگایا جاتا تھا، ان دوخاندانوں نے ملک کے اداروں کو کبھی مضبوط نہیں ہونے دیا، انہوں نے اقتدارمیں آ کر اداروں کو کمزورکیا۔
عمران خان نے کہا کہ بار بار سنتے ہیں سائفر ایک ڈرامہ تھا، کہتے ہیں سائفر تو ایک فیک بیانیہ ہے، جو لوگ سائفر کو جعلی بیانیہ کہہ رہے ہیں وہی سازش کا حصہ تھے، ڈونلڈ لو نے اسد مجید کو کہا اگر عمران کو نہ ہٹایا تو ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ سائفر کے اندر نہیں تھا جو نیشنل سیکیورٹی کونسل میں آیا؟ نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ڈی مارش کرو، یہ سارا سچ ہے، سائفر کا انکار کرنا عمران خان نہیں ملک کی توہین ہے۔
پی ٹی آئی چئیرمین نے کہا کہ ساڑھے تین سالوں میں ایک جگہ فیل ہوا ہوں طاقتوروں کوقانون کے نیچے نہیں لاسکا، میں نے بڑی کوشش کی نیب میرے نیچے نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے نیچے تھی، نیب والے کہتے تھے کیس سارے تیار تھے لیکن حکم نہیں آرہا، وہ ان چوروں کوجیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان سے میٹنگیں کر رہے تھے، ہر میٹنگ میں کہا تھا بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہونا چاہیے، مجھے میسج آتا تھا اکانومی پر توجہ دیں، احتساب کو بھول جائیں۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے جن کے پاس طاقت تھی وہ کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تھے۔ آپ نے دیکھ لیا ان کو کرپشن بری نہیں لگتی تھی تو سارے چوروں کو اوپر بٹھا دیا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے 2018ء میں اقتدار سنبھالا تو 20 ارب ڈالر کا تاریخی خسارہ تھا، دوست ممالک سے پیسے مانگتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ شرم آئی، ان چوروں نے 10 سالہ اقتدار کے دوران قرضوں میں 4 گنا اضافہ کیا، ہمارے دور میں کورونا آگیا لیکن ہم نے معیشت کو سنبھالا، کورونا کے دوران اپوزیشن نے مجھے لاک ڈاؤن کرنے کا کہا، میں نے کہا چھابڑی والا، دہاڑی دار مزدور طبقے کا کیا بنے گا؟ لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے معیشت کو بچایا، دنیا نے ہمارے احساس پروگرام کو سراہا، ہمارے دور میں ریکارڈ ایکسپورٹ ہو رہی تھی، 17 سال بعد پہلی دفعہ انڈسٹریز ترقی کر رہی تھی، ہمارے دورمیں گروتھ ریٹ چھ فیصد پر ترقی کررہی تھی، ہم نے توملک کو اٹھادیا تھا، ہمارے دور میں کسانوں کو پہلی دفعہ پوری قیمت ملی، ہمارے دورمیں ملک ترقی کررہا تھا، ہماری حکومت نے غریب خاندانوں کو 10 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت دی۔ ان چوروں کو لیکر آئے انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا، آج پاکستان کے قرضوں کا رسک 100 فیصد سے بھی زائد ہوچکا ہے، ہمارے دورمیں قرضوں کا رسک صرف 5 فیصد تھا، سروے کے مطابق ابھی 88 فیصد سرمایہ کاروں کے مطابق حکومت کی سمت درست نہیں، ہمارا لوٹا اپوزیشن لیڈر بن گیا، اسمبلی بھی ختم ہو گئی، ایف آئی اے میں اپنے لوگ بٹھا کر کیسزمعاف کرا لیے، نیب، ایف آئی اے میں اپنے لوگ بٹھا دیئے، انہوں نے سب سے زیادہ رول آف لا اور ملک کی اخلاقیات کو تباہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ میرا پاکستان اور میری فوج ہے، میں چاہتا ہوں میری فوج مضبوط ہو، اگرفوج مضبوط نہیں ہو گی تو دوسرے مسلم ممالک کا حال دیکھ لیں، ہمیں اپنی طاقتور فوج پرفخر ہے، اپنی عدلیہ اور فوج پر تعمیری تنقید کرتا ہوں، وہ پاکستانی نہیں جو پیسہ لوٹ کر باہر بھاگ جائے، یہ سیاست دان نہیں غیرملکی قبضہ گروپ ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔
کبھی کسی اور ملک کا پاسپورٹ لینے کا نہیں سوچا، چاہتا ہوں ملک حقیقی طور پر آزاد ہو، خون کے آخری قطرے تک اپنے ملک کے لیے لڑوں گا، لوگ گواہی دیں گے آخری گیند تک میں لڑتا رہا۔ انہوں نے کہا آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کرنہیں دیتا لڑنا پڑتا ہے، آزادی کے لیے زنجیروں کو توڑنا پڑتا ہے، آزادی کوئی دیتا نہیں چھیننی پڑتی ہے۔
سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، بڑے بڑے طاقتور فیصلہ کرنے والوں کو بھی بتا رہا ہوں، ملک ڈوب رہا ہے، فیصلہ کیا ہے اب اس کرپٹ نظام کا حصہ نہیں رہیں گے.
عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کسی قسم کا انتشار پیدا نہیں کرنا چاہتے، معاشی حالات پہلے ہی بُرے ہیں توڑ پھوڑشروع ہو گئی تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے، ہم ملک میں تباہی مچانے کے بجائے کرپٹ نظام سے باہر نکلیں گے، اسلام آباد نہیں جائیں گے، ہم اس کرپٹ سسٹم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تمام اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کرتے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ سے بات کی ہے، پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد تاریخ کا اعلان کرونگا۔

مزید پڑھیے

Most Popular