
دوحہ : قطر میں جاری فٹبال ورلڈ کپ میں اسرائیل مخالف جذبات بلند اور فلسطین نواز ماحول غالب ہے۔ دوحہ میں موجود اسرائیلی نامہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے عرب دنیا میں قابض صیہونی حکومت کیخلاف نفرت اور دشمنی کی فضا پائی جاتی ہے۔ عرب اور مسلمان شائقین، مقامی افراد اور حکام سمیت کوئی ان سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ شائقین براہ راست کوریج کے دوران فلسطینی پرچم لہرادیتے ہیں۔اسٹیڈیم میں فلسطینی پرچموں کی بہار ہے۔اسرائیلی نامہ نگاروں اور صحافیوں نے اپنے بائیکاٹ کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خیر مقدم نہیں کیاگیا، انہوں نے خود کو نفرت اور دشمنوں میں گھرا محسوس کیا۔
ایک اسرائیلی رپورٹر نے بتایا کہ قطری ڈرائیور نے اسے اپنی ٹیکسی سے اتار دیا جب اسے معلوم ہوا کہ وہ اسرائیلی ہے۔ ایک رپورٹر کو ریستوران کے مالک نے باہر نکلوادیا۔ ایک اور رپورٹر نے بتایا کہ اس نے ہراساں ہونے سے بچنے کیلئے اپنی اصلیت چھپائی اور خود کو ایکواڈور کا شہری قرار دیا۔ مختلف ویڈیوز اور میڈیا کلپس میں مقامی اور غیر مقامی افراد اسرائیلی رپورٹرز کے پیچھے کھڑے ہیں اور فلسطینی پرچم اٹھا کر قابض حکومت کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔


































