
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے واقعے کی ایف آئی آر آج رات تک درج کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ارشد شریف قتل کے ازخود نوٹس کیس کی اپنی سربراہی میں سماعت کے لیے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ پاکستان میں ارشد شریف کے قتل کا فوجداری مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟۔ سیکریٹری داخلہ نے جواب دیا کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لے کر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ ہو گا۔ جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا مقدمہ درج کرنے کا یہ قانونی طریقہ ہے؟۔ جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ مقدمہ درج کیے بغیر تحقیقات کیسے ہوسکتی ہیں؟۔ اس سے قبل عدالتِ عظمیٰ نے صحافی ارشد شریف کی میڈیکل رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ وزیرِ داخلہ فیصل آباد میں تھے جب رپورٹ آئی، ان کے دیکھنے کے بعد رپورٹ سپریم کورٹ کو دی جائے گی، رپورٹ میں کچھ حساس چیزیں ہو سکتی ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا وزیرِداخلہ کو رپورٹ تبدیل کرنی ہے؟۔ انہوں نے حکم دیا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ آج ہی جمع کرائیں تاکہ کل اس پر سماعت ہو سکے، 43 دن سے رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، معاملہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں، 5 رکنی بینچ حالات کی سنگینی کی وجہ سے ہی تشکیل دیا ہے، 23 اکتوبر سے آج تک عدالت کو صرف میڈیکل رپورٹ ہی ملی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ارشد شریف کے قتل کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کل 7 دسمبر تک ملتوی کر دی۔


































