
تہران: ایران کے جوڈیشری لائرز سینٹر کے سربراہ حسن عبدالیان پور نےکہا ہے کہ امریکی حملے کا شکار ایرانی بحریہ کے جنگی جہاز دینا کے آخری لمحات کے رابطوں کی آڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملے نے امریکی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا جہاز غیر مسلح ہے اور محض ایک تربیتی مشن پر ہے۔ حسن عبدالیان پور کے مطابق رابطے کے آخری لمحات میں ‘دینا’ کے عملے کی جانب سے کہا گیا کہ ہم کوئی فوجی جہاز نہیں ہیں، ہم مکمل طور پر غیر مسلح ہیں اور ہم یہاں ایک تربیتی مشن کے لیے آئے ہیں.
حسن عبدالیان پور کا کہنا تھا کہ سری لنکن حکام نے بھی اس معلومات اور جہاز کی حیثیت کی تصدیق کی تھی۔ ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اگر کسی جہاز کو نشانہ بنایا بھی جائے تو اس پر سوار افراد کی جان بچانے کے لیے انہیں فوری امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی حملے کے بعد نہ صرف عملے کو کوئی امداد فراہم نہیں کی گئی بلکہ جہاز پر دوسرا حملہ بھی کیا گیا اور ‘دینا’ کے عملے کو ریسکیو کرنے کی کوششوں کو بھی روکا گیا۔

































