
تحریر: علی اظہار
تاریخ: ۲۴ ستمبر ۲۰۲۶
تاریخ میں بعض رہنما اپنی جماعت، منصب یا عہد کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں، مگر بعض شخصیات اپنے کردار، فکر اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک مستقل مکتب میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ شہید سید حسن نصر اللہؒ بھی انہی غیر معمولی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں صرف حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل، لبنان کے سیاسی رہنما یا اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھنا ان کے اثرات کو محدود کر دینا ہوگا۔ ان کی اصل پہچان اس فکر میں ہے جس نے ایمان، بصیرت، عوامی اعتماد، تنظیمی نظم اور قربانی کو ایک مربوط مزاحمتی قوت میں تبدیل کیا۔
سید حسن نصر اللہؒ کا مکتب کسی ایک تقریر، جنگ یا سیاسی کامیابی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ کئی دہائیوں پر محیط جدوجہد، مسلسل مطالعے، میدانی تجربے، عوام سے گہرے تعلق اور بدلتے ہوئے حالات کے درست تجزیے سے تشکیل پایا۔ اسی لیے ان کے بعد ان کی فکر کا مطالعہ محض ماضی کو یاد کرنا نہیں، بلکہ مستقبل کی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے۔
*ایمان اور حقیقت پسندی کا امتزاج*
سید حسن نصر اللہؒ کی فکر کا پہلا نمایاں وصف یہ تھا کہ ان کے ہاں توکل اور تدبیر ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ وہ کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی نصرت سے وابستہ کرتے تھے، لیکن اس نصرت کے حصول کے لیے تیاری، نظم، معلومات، قربانی اور درست حکمتِ عملی کو بھی ناگزیر سمجھتے تھے۔
ان کی گفتگو میں قرآنی وعدوں پر یقین نمایاں تھا، مگر یہ یقین عملی ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ نہیں بنتا تھا۔ ان کے نزدیک ایمان انسان کو حالات کے سامنے بے بس نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی قوت عطا کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر مزاحمت محض جذباتی ردعمل نہیں رہتی، بلکہ ایک منظم، طویل المدت اور حقیقت پسندانہ جدوجہد بن جاتی ہے۔
یہی امتزاج ان کی قیادت کو منفرد بناتا تھا۔ وہ دشمن کی طاقت کا انکار نہیں کرتے تھے، لیکن اسے مطلق اور ناقابلِ شکست بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ دشمن کے پاس جدید ہتھیار اور وسیع وسائل ہو سکتے ہیں، لیکن میدان کا نتیجہ صرف مادی طاقت سے متعین نہیں ہوتا۔ ارادہ، معلومات، زمینی تیاری، عوامی حمایت اور قربانی کی صلاحیت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
*دشمن شناسی: نعروں سے آگے*
مکتبِ نصر اللہؒ میں دشمن شناسی محض کسی ریاست یا فوج کے خلاف جذبات کا نام نہیں۔ اس سے مراد دشمن کے مقاصد، کمزوریوں، نفسیاتی حربوں، سیاسی اتحادوں اور ابلاغی طریقوں کو سمجھنا ہے۔ وہ اسرائیل کو صرف ایک عسکری خطرہ نہیں، بلکہ ایک ایسے منصوبے کے طور پر دیکھتے تھے جو خوف، تقسیم، سیاسی دباؤ اور نفسیاتی برتری کے ذریعے پورے خطے کو متاثر کرنا چاہتا ہے۔
اسی لیے ان کی تقاریر میں میدانِ جنگ کے ساتھ ساتھ میڈیا، افواہوں، داخلی اختلافات اور عوامی حوصلے کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کسی قوم کو شکست دینے کے لیے ہمیشہ اس کی سرزمین پر قبضہ کرنا ضروری نہیں؛ کبھی اسے اپنی قوت سے مایوس، اپنی قیادت سے بدظن اور اپنے مستقبل سے ناامید کر دینا بھی کافی ہوتا ہے۔
ان کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ دشمن کی طاقت کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے۔ اسرائیل کے ناقابلِ شکست ہونے کی شبیہ کو توڑنا اسی فکری جدوجہد کا حصہ تھا۔ 2000ء میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا اور 2006ء کی جنگ نے اس تصور کو گہرا چیلنج دیا کہ جدید عسکری قوت ہر حال میں اپنے سیاسی اہداف حاصل کر سکتی ہے۔
*عوام: مزاحمت کا حقیقی سرمایہ*
سید حسن نصر اللہؒ نے مزاحمت کو عوام سے الگ کسی عسکری ڈھانچے کے طور پر نہیں دیکھا۔ ان کی نظر میں مزاحمت کی پائیداری کا انحصار اس اعتماد پر تھا جو قیادت، مجاہدین اور عوام کے درمیان قائم ہو۔ اسی لیے ان کی گفتگو میں جنوبی لبنان کے باشندوں، بے گھر خاندانوں، شہداء کے والدین، قیدیوں اور عام کارکنوں کا ذکر مسلسل ملتا ہے۔
انہوں نے عوام سے قربانی کا مطالبہ ضرور کیا، لیکن خود کو اور اپنے خاندان کو اس قربانی سے مستثنیٰ نہیں رکھا۔ 1997ء میں اپنے فرزند سید ہادی نصر اللہ کی شہادت کے موقع پر ان کا طرزِ عمل اس مساوات کی علامت بن گیا۔ اس واقعے نے یہ پیغام دیا کہ قیادت صرف دوسروں کے فرزندوں کو میدان میں بھیجنے کا نام نہیں، بلکہ خود بھی اسی آزمائش میں شریک ہونے کا عہد ہے۔
یہی اخلاقی ہم آہنگی ان کی مقبولیت کا ایک بڑا سبب تھی۔ ان کے الفاظ صرف اس لیے مؤثر نہیں تھے کہ وہ ایک ماہر خطیب تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ سامعین ان الفاظ کے پیچھے قربانی اور عمل کی ایک پوری تاریخ دیکھتے تھے۔
*قیادت میں صداقت اور اعتماد*
سید حسن نصر اللہؒ کی ابلاغی قوت کا بنیادی ستون اعتماد تھا۔ ان کی تقریروں کا انتظار صرف ان کے حامی ہی نہیں، بلکہ مخالفین، علاقائی حکومتیں اور عالمی ذرائع ابلاغ بھی کرتے تھے۔ ان کے خطابات کو سیاسی اور عسکری اشاروں کے طور پر پڑھا جاتا تھا۔
وہ پیچیدہ حالات کو سادہ، واضح اور مربوط زبان میں بیان کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں مذہبی استدلال، تاریخی شعور، سیاسی تجزیہ اور عوامی زبان یکجا ہو جاتے تھے۔ وہ اپنے مخاطب کو صرف یہ نہیں بتاتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس صورتِ حال میں اجتماعی ذمہ داری کیا بنتی ہے۔
ان کی قیادت میں وعدے کی اہمیت غیر معمولی تھی۔ مخالفین بھی ان کے بیانات کو محض رسمی سیاسی گفتگو سمجھ کر نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ یہی ابلاغی ساکھ نفسیاتی جنگ میں ایک اہم قوت بن گئی۔
*شخصیت کے بجائے ادارہ*
کسی رہنما کے مکتب بننے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کو صرف اپنی ذات کے گرد منظم نہ کرے، بلکہ ایسا ادارہ تشکیل دے جو سخت حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکے۔ سید حسن نصر اللہؒ نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط قیادت کے دوران حزب اللہ کو عسکری مزاحمت کے ساتھ سیاسی، سماجی، ابلاغی اور فلاحی میدانوں میں بھی ایک منظم قوت بنایا۔
ان کی شخصیت بہت نمایاں تھی، لیکن ان کا تنظیمی تصور محض شخصی مقبولیت پر قائم نہیں تھا۔ ذمہ داریوں کی تقسیم، افراد کی تربیت، نئی قیادت کی تیاری، معلومات کا منظم انتظام اور ادارہ جاتی تسلسل ان کی حکمتِ عملی کا حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شہادت کے بعد سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کا قائم کردہ فکری اور تنظیمی راستہ کس طرح آگے بڑھے گا۔
*فلسطین: مصلحت سے بالاتر اصول*
فلسطین سید حسن نصر اللہؒ کی فکر میں کوئی وقتی سیاسی موضوع نہیں تھا۔ وہ اسے امت، انسانیت اور عدل کا بنیادی مسئلہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک فلسطینی عوام کی حمایت علاقائی مفادات کے تابع کوئی عارضی پالیسی نہیں، بلکہ ایک دینی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری تھی۔
غزہ کی جنگ کے دوران بھی انہوں نے لبنانی محاذ کو فلسطینی عوام کی حمایت سے وابستہ رکھا اور واضح کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کی صورت میں حمایتی محاذ کی کارروائیاں بھی رک جائیں گی۔ اس مؤقف سے ان کی حکمتِ عملی میں فلسطین کی مرکزیت نمایاں ہوتی ہے۔
انہوں نے فلسطین کو فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے بیانیے میں قدس کسی خاص جماعت، قوم یا مسلک کی ملکیت نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں، عربوں اور آزادی پسند انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری تھا۔
*شہادت کے بعد مکتب کی ذمہ داری*
سید حسن نصر اللہؒ کی شہادت کے بعد ان سے محبت کا سب سے آسان طریقہ ان کی تصاویر، اقوال اور یادوں کو محفوظ کرنا ہے؛ لیکن ان کے مکتب سے حقیقی وفاداری اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ان کی فکر کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ مطالعے، فکری تربیت اور عملی کردار کے ذریعے سمجھا جائے۔
مکتبِ نصر اللہؒ ہمیں سکھاتا ہے کہ مزاحمت صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں۔ حقائق کو پہچاننا، جھوٹے بیانیوں کا مقابلہ کرنا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا، داخلی وحدت کی حفاظت کرنا، اجتماعی نظم قائم رکھنا اور مشکل حالات میں امید کو زندہ رکھنا بھی مزاحمت ہے۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ قیادت منصب سے نہیں، ذمہ داری سے پیدا ہوتی ہے؛ اعتماد نعروں سے نہیں، صداقت اور قربانی سے حاصل ہوتا ہے؛ اور فتح صرف دشمن کو نقصان پہنچانے میں نہیں، بلکہ اپنی قوم کو خوف، شکست خوردگی اور مایوسی سے نکالنے میں بھی پوشیدہ ہے۔
سید حسن نصر اللہؒ آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے سوالات، متعین کردہ اصول اور عائد کردہ ذمہ داریاں باقی ہیں۔ جب تک مظلوم قومیں آزادی، عزت اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کرتی رہیں گی، ان کا فکر و تجربہ زیرِ بحث رہے گا۔
*اسی معنی میں نصر اللہؒ صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایمان، بصیرت، تنظیم، قربانی اور مزاحمت سے تشکیل پانے والا ایک زندہ فکری مکتب ہیں۔*

































