Sun Oct 04, 2026

نماز اللہ سے قریبی تعلق قائم کرنے، محبت، امید، مہربانی اور امن کا جاری چشمہ ہے، ولی امر مسلمین آر اے ایف فئیر فورڈ واقعے میں ایران کے مبینہ کردار سے متعلق برطانوی دعوی مسترد عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر جشن اتنے میزائل ہیں کہ دشمن پر کئی سال تک حملے جاری رکھ سکتے ہیں، علی بلالی امریکا نے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کے باوجود ایرانی بحریہ کے جہاز پر حملہ کیا، ایران عراق کی اسلامی مزاحمت کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکی انخلا کو مزاحمت کی کامیابی قرار دے دیا پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 شدت پسند ہلاک محسن رضائی کی عرب امارات کو وارننگ، نیتن یاہو کی خفیہ میزبانی پر سخت ردعمل عراق سے 23 سال بعد امریکی افواج کا مکمل انخلا آبنائے ہرمز میں 3 جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا افغانستان کسی بھی ملک میں بد امنی یا عدم استحکام نہیں چاہتا، ترجمان جنگ میں ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں پاسدارانِ انقلاب کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، ٹرمپ پالیسیوں کی مخالفت کا مطالبہ امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ایران امریکا جنگ: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا

روزانہ کی خبریں

نماز اللہ سے قریبی تعلق قائم کرنے، محبت، امید، مہربانی اور امن کا جاری چشمہ ہے، ولی امر مسلمین

تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے دنیاوی شیطانوں کے مقابلے میں نماز کو طاقت کا مستقل ذریعہ قرار دیتے ہوئے معاشرے کو مضبوط بنانے اور مشکلات کے دوران لوگوں کی مدد میں اس کے وسیع تر کردار پر زور دیا ہے۔ انہوں نے نماز کے موضوع پر منعقدہ مقامی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں نماز قائم کرنے اور سالانہ کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نماز اسلامی معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ نماز اللہ تعالیٰ کی عظیم اور خوبصورت نعمتوں میں سے ایک، دین کا سب سے بلند ادارہ، علامت اور ستون ہے، اور وہ رابطہ ہے جس کے ذریعے ہم میں سے ہر شخص لامحدود اور ہمیشہ باقی رہنے والے الٰہی سرچشمے کے ساتھ قریبی اور براہِ راست تعلق قائم کرتا ہے۔ ولی امر مسلمین نے نماز کو خوش بختی اور نجات کا ذریعہ اور صحت مند زندگی کا ستون قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خوش بختی اور نجات کا یہ اکسیر اور صحت مند زندگی کا ستون، نفسِ امارہ اور دنیاوی شیطانوں کے خلاف انسان کی جدوجہد میں ایک مضبوط اور مسلسل سہارا اور ناقابلِ ختم ذخیرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نماز امید اور سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ نماز محبت، امید، مہربانی اور امن کا ایک جاری چشمہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نماز قائم کرنے اور استغفار کے ذریعے اللہ کی برکتیں اور رزق میں فراوانی حاصل ہوتی اور بڑھتی ہے۔
ولی امر مسلمین نے زور دیا کہ نماز کو محض ایک انفرادی فریضہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نماز قائم کرنا صالح حکمرانی کی ایک نمایاں خصوصیت بھی ہے. انہوں نے اس تعلیم کو ایران کو درپیش موجودہ جدوجہد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آیتِ قرآنی کا اللہ کے پیروکاروں اور ان کی جدوجہد کے لیے الٰہی مدد کے وعدے کے بعد آنا، ثابت قدمی اور فتح میں نماز کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز کا قیام، اللہ کے ذکر، امید اور اس پر توکل کے مضبوط قلعے کے طور پر جہاد، فتح اور جدوجہد کے میدانوں میں کامیابی میں خصوصی کردار رکھتا ہے، بالخصوص اس جدوجہد کے میدان میں جس کا ایرانی قوم آج سامنا کر رہی ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کے اس بار بار دہرائے جانے والے حکم نماز قائم کرو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے.
انہوں نے خاندانوں، اساتذہ، مذہبی اداروں، جامعات، ثقافتی تنظیموں اور نمایاں شخصیات پر زور دیا کہ وہ بالخصوص نوجوانوں میں نماز کے فروغ کے لیے زیادہ ذمہ داری ادا کریں۔ ولی امر مسلمین نے کہاہے کہ نماز کو عام اور ادارہ جاتی سطح پر رائج کرنا، اور اس کے بعد اسے درست طریقے سے ادا کرنے کےلیے اجتماعی کوشش کرنا، اسلامی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مساجد اور باجماعت نماز کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی عبادت میں لوگوں کی شرکت بڑھانے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ ضروری اقدامات ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular