
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے دنیاوی شیطانوں کے مقابلے میں نماز کو طاقت کا مستقل ذریعہ قرار دیتے ہوئے معاشرے کو مضبوط بنانے اور مشکلات کے دوران لوگوں کی مدد میں اس کے وسیع تر کردار پر زور دیا ہے۔ انہوں نے نماز کے موضوع پر منعقدہ مقامی کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں نماز قائم کرنے اور سالانہ کانفرنس کے انعقاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نماز اسلامی معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ نماز اللہ تعالیٰ کی عظیم اور خوبصورت نعمتوں میں سے ایک، دین کا سب سے بلند ادارہ، علامت اور ستون ہے، اور وہ رابطہ ہے جس کے ذریعے ہم میں سے ہر شخص لامحدود اور ہمیشہ باقی رہنے والے الٰہی سرچشمے کے ساتھ قریبی اور براہِ راست تعلق قائم کرتا ہے۔ ولی امر مسلمین نے نماز کو خوش بختی اور نجات کا ذریعہ اور صحت مند زندگی کا ستون قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ خوش بختی اور نجات کا یہ اکسیر اور صحت مند زندگی کا ستون، نفسِ امارہ اور دنیاوی شیطانوں کے خلاف انسان کی جدوجہد میں ایک مضبوط اور مسلسل سہارا اور ناقابلِ ختم ذخیرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نماز امید اور سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ نماز محبت، امید، مہربانی اور امن کا ایک جاری چشمہ بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نماز قائم کرنے اور استغفار کے ذریعے اللہ کی برکتیں اور رزق میں فراوانی حاصل ہوتی اور بڑھتی ہے۔
ولی امر مسلمین نے زور دیا کہ نماز کو محض ایک انفرادی فریضہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ قرآن کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نماز قائم کرنا صالح حکمرانی کی ایک نمایاں خصوصیت بھی ہے. انہوں نے اس تعلیم کو ایران کو درپیش موجودہ جدوجہد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آیتِ قرآنی کا اللہ کے پیروکاروں اور ان کی جدوجہد کے لیے الٰہی مدد کے وعدے کے بعد آنا، ثابت قدمی اور فتح میں نماز کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز کا قیام، اللہ کے ذکر، امید اور اس پر توکل کے مضبوط قلعے کے طور پر جہاد، فتح اور جدوجہد کے میدانوں میں کامیابی میں خصوصی کردار رکھتا ہے، بالخصوص اس جدوجہد کے میدان میں جس کا ایرانی قوم آج سامنا کر رہی ہے۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام کو آج پہلے سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کے اس بار بار دہرائے جانے والے حکم نماز قائم کرو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے.
انہوں نے خاندانوں، اساتذہ، مذہبی اداروں، جامعات، ثقافتی تنظیموں اور نمایاں شخصیات پر زور دیا کہ وہ بالخصوص نوجوانوں میں نماز کے فروغ کے لیے زیادہ ذمہ داری ادا کریں۔ ولی امر مسلمین نے کہاہے کہ نماز کو عام اور ادارہ جاتی سطح پر رائج کرنا، اور اس کے بعد اسے درست طریقے سے ادا کرنے کےلیے اجتماعی کوشش کرنا، اسلامی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مساجد اور باجماعت نماز کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی عبادت میں لوگوں کی شرکت بڑھانے اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ ضروری اقدامات ہیں۔

































