
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات ایسے عالم میں منعقد کر رہی ہے، جب وہ ایک ایسے سیاسی تنازع میں گھری ہوئی ہے، جو محض نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے سیاسی مقابلے تک محدود نہیں، بلکہ اس حکومت کے حکومتی اداروں کے مستقبل اور اس کے سیاسی نظام کی نوعیت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ حکمران دائیں بازو کے اتحاد کے حامی اس معرکے کو اپنی پالیسیوں کے تسلسل کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج فلسطینیوں کی تقدیر اور مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔ برطانوی اخبار گارجین کے صحافی جوناتھن فریڈلینڈ نے مقبوضہ فلسطین کے دورے کے بعد لکھا ہے کہ جن بہت سے صہیونیوں سے انہوں نے گفتگو کی، ان کے نزدیک یہ انتخابات صہیونی حکومت کے قیام کی تاریخ کے "اہم ترین انتخابات” ہیں۔ بعض افراد کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں موجودہ حکمران اتحاد دوبارہ اقتدار میں آگیا تو یہ اسرائیل کے آخری انتخابات ثابت ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل میں سیاسی زندگی کا زوال
مصنف نے ایسے واقعات کا حوالہ دیا ہے، جنہیں وہ اسرائیل کی سیاسی زندگی کے زوال کی علامات قرار دیتا ہے۔ ان میں نیتن یاہو کی جانب سے ان صہیونی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کے مطالبات کی حمایت بھی شامل ہے، جنہوں نے غزہ میں صہیونی فوج کے جرائم پر تنقید کرنے والی ایک فلم بنائی ہے۔ فریڈلینڈ کے مطابق، یہ الزامات ایک ایسی سیاسی مہم کا حصہ ہیں، جس میں گمراہ کن معلومات پھیلانے اور سازشی نظریات کو فروغ دینے کے ذریعے عوام کی توجہ نیتن یاہو کی ناکامیوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فریڈلینڈ نے صہیونی کارکن یہودا شاؤل کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل کے سرکاری ادارے اور عدالتیں، فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع میں کمزور کردار کے باوجود، اب بھی سیاسی سمت تبدیل کرنے کا امکان فراہم کرتی ہیں۔ شاؤل خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ ادارے بھی کمزور یا تباہ ہوگئے تو اسرائیلی حکومت ایک "گہری کھائی” کی طرف جا سکتی ہے۔
یہودی بستیوں میں توسیع
فریڈلینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے کا دورہ کرنے کے بعد لکھا ہے کہ وہاں فلسطینیوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل ہونے کا سامنا ہے۔ شاؤل کے اندازے کے مطابق، 2023ء سے اب تک تقریباً 250 نئی صہیونی بستیاں اور آبادکاری کے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔ مصنف کے مطابق اس عمل نے فلسطینی شہروں کو ایک دوسرے سے جدا "الگ تھلگ جزائر” میں تبدیل کر دیا ہے اور ایک مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درکار جغرافیائی تسلسل کو ختم کر دیا ہے۔ فریڈلینڈ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے، بالخصوص انتہا پسند صہیونی وزیر بتسلئیل اسموتریچ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ، یہودی بستیوں کی توسیع کے احکامات دیے اور انتہاء پسند آبادکاروں کے پرتشدد اقدامات سے چشم پوشی کی۔ مصنف آخر میں نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات کے اثرات صرف اسرائیلی حکومت تک محدود نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کے نتائج اسرائیل کے اندر جمہوریت کے مستقبل کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے کے مستقبل کی سمت پر بھی اثر انداز ہوں گے، جہاں یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کی ایک غیر معمولی لہر جاری ہے۔

































