
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
امریکی افواج تیس ستمبر کو عراقی سرزمین سے رخصت ہو رہی ہیں۔ ظلم و جبر کی تاریک رات کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے، ابو غریب جیل جیسے انسانیت سوز مظالم کا کلنک ان کے ماتھے پر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ امریکی جہاز دن رات عراقی سرزمین پر بمباری کر رہے تھے اور سویلین کا قتل عام کیا جا رہا تھا۔ اس وقت صدامی افواج ریت کی دیوار ثابت ہوئیں اور دنوں میں عراق امریکی قبضے میں چلا گیا۔ امریکی قبضے کے ساتھ ہی عراق کی غیور عوام نے امریکہ کے خلاف مزاحمت شروع کر دی۔ یہ آسان نہ تھا، آزادی کی اس جدوجہد میں بستیاں اجڑیں اور شہر برباد ہوئے۔ خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ او پیین ریسرچ بزنس کے سروے کے مطابق جنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے عراقیوں کی تعداد 10 لاکھ سے زائد تھی۔ دس لاکھ سے زائد لوگ کتنے ہوتے ہیں، یوں سمجھ لیں کہ یہ تعداد قطر اور بحرین کے اصل باشندوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ یہ جدید تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام تھا، جس میں اہل عراق کی نسل کشی کی گئی۔ ایسا ایک بار نہیں ہوا، پہلے خود اہل عراق کو مارا، پھر پوری دنیا سے خوارج کو جمع کیا گیا اور انہیں وسائل فراہم کرکے اہل عراق کے قتل عام کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
یہ جدید عسکری تاریخ کا معجزہ تھا کہ ایک فتویٰ کی طاقت سے حشد الشعبی معرض وجود میں آئی اور اس نے تمام استعماری اور ان کے مقامی ایجنٹوں کے منصوبے خاک میں ملا دیئے۔ لاکھوں لوگ اٹھے اور بے رحم دشمن سے ٹکرا گئے۔ منصوبہ بڑا خطرناک تھا کہ عراق پر داعشی مسلط کرکے ان کے ذریعے ایران میں مداخلت کی جائے گی۔ ان کے نعرے ہی تہران کے تھے، دنیا بھر کے ضد انقلاب بھی انہیں اپنے لیے ایک امید کے طو رپر دیکھ رہے تھے۔ ان سب کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور یہ تنکوں کی طرح ہوا میں بکھر گئے۔ استعمار نے انہیں شام میں اکٹھا کیا اور وہ جولانی جو عراق میں ایک مطلوب داعشی مجرم ہے، وہ وہاں کا حکمران بن گیا۔ امریکہ کا عراق چھوڑنا بہت اچھا ہے، بلکہ اس کا پورے خطے سے نکل جانا خطے کے لیے بہت اچھا ہے، مگر استعمار جاتے جاتے خطوں میں لڑائی کا بیج بو جاتے ہیں۔
برطانیہ برصغیر سے گیا تو مسئلہ کشمیر چھوڑ گیا، اسی طرح مسئلہ فلسطین بھی اسی کا پیدا کردہ ہے۔ امریکا افغانستان کو چھوڑ کر بھاگا اور جاتے ہوئے جدید ترین اسلحہ طالبان کے ہاتھوں دے گیا ہے۔ آج یہی اسلحہ پاکستان اور خطے کے کئی دیگر ممالک کے لیے عدم استحکام کی وجہ بنا ہوا ہے۔ امریکی افواج کی آخری قیام گاہیں کردستان میں ہیں۔ عراقی کردستان کا عراقی فیڈریشن سے تعلق کافی کمزور ہے۔ صرف دفاع، خارجہ پالیسی اور کرنسی ہی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پیشمرگہ فورسز بجٹ وفاقی عراقی حکومت سے لیتی ہیں، مگر یہ عراقی افواج یا مرکزی حکومت کے ماتحت نہیں ہیں بلکہ حیران کن طور پر کسی سطح پر بھی وفاقی حکومت کو جواب دہ نہیں ہیں۔
یہی وہ پوائنٹ ہے، جسے آپ ٹائم بم کہہ سکتے ہیں۔ یہ پونے دو لاکھ تربیت یافتہ فوجی ہیں، جن کی تربیت قوم پرستی پر کی گئی ہے اور یہ تقریباً مذہب بیزار ہی ہوتے ہیں۔ یہ خطے کی ایک بڑی فالٹ لائن بن سکتے ہیں، کیونکہ شام میں عدم استحکام ہے اور وہاں بھی پیشمرگہ فورسز الگ سے موجود ہیں۔ ترکیہ میں اگرچہ کچھ عرصہ پہلے ہتھیار ڈالے گئے، مگر فالٹ لائن موجود ہے۔ ایران کے کرد علاقوں میں شورش برپا کرنے کے لیے دہشتگرد عناصر کو یہیں سے سپورٹ ملتی ہے اور ایرانی کردستان کو امریکہ اور اسرائیل ایران میں مداخلت کا دروازہ سمجھتے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد زمینی کارروائی انہی کے ذمہ تھی، مگر اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کی بروقت کارروائی اور عراقی کردستان کی قیادت کو کی جانے والی تنبیہات کی وجہ سے یہ لوگ کسی بڑی کارروائی سے باز رہے۔
معروف صحافی سیف احمد لکھتے ہیں: یمن کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں عراق اور کردستان ایک نئی کشیدگی کا مرکز بن سکتے ہیں۔ امریکی افواج کے عراق سے انخلا کے دوران اسلحہ اور مقامی کرد ملیشیاؤں، خصوصاً پیشمرگہ کا معاملہ بغداد، انقرہ، دمشق اور تہران کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ عراقی حکومت کو خدشہ ہے کہ امریکی انخلا کے بعد کرد فورسز مزید مضبوط ہو کر عراقی کردستان کی مکمل آزادی کی طرف بڑھ سکتی ہیں، جبکہ شام میں موجود کرد علاقوں کے ساتھ ممکنہ روابط خطے کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ مسلح تصادم کی طرف بڑھا تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی طویل کشیدگی کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ ان خدشات کو تقویت اسرائیلی سیاستدانوں کے حالیہ بیانات سے ملتی ہے، جس میں وہ صاف کہتے رہے کہ آزاد کردستان ہی خطے میں اسرائیل کا واحد قابل اعتماد دوست اور اتحادی بن سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آزاد مکمل کردستان بنانے کی صورت میں ایران، عراق، شام اور ترکیہ کا کافی حصہ ٹوٹ جاتا ہے تو ظاہر ہے، ایسی ریاست کا قابل اعتماد علاقائی اتحادی اسرائیل ہی ہوگا۔
فلسطین، افغانستان اور دنیا کے بہت سے خطوں سے نکلتے وقت استعمار جان بوجھ کر بڑے مسائل چھوڑ جاتا ہے۔ اس لیے عراق سمیت خطے کے ممالک کو آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ جدید ترین اسلحہ کردوں کی بجائے عراقی حکومت کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیئے۔ اسی طرح امریکی جو اڈے چھوڑ کر جا رہے ہیں، انہیں پیشمرگہ کی بجائے عراقی حکومت کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہیئے۔ عراقی حکومت امریکی دباو پر حشد الشعبی کے محافظین وطن سے اسلحہ لینے پر زور لگا رہی ہے، اسے چاہیئے کہ پیشمرگہ کو مرکزی آرمی چین میں لے آئیں۔ ان کا اسلحہ اور دیگر تمام دفاعی اسلحہ بھی عراق کی حکومت کے پاس ہونا چاہیئے۔ ویسے حشد الشعبی نے درست شرط رکھی ہے کہ پہلے پیشمرگہ سے اسلحہ لے کر انہیں مرکز کے تابع کیا جائے، اس کے بعد ہم ہتھیاروں کو ریگولیٹ کرنے کا سوچیں گے۔ کردستان کا عراقی فورسز کے ماتحت ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسی صورت میں ہی ایران میں ان کرد دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے، جو امریکی و اسرائیلی پیرول پر ایران میں داخل ہو کر دہشتگرد حملے کرتے ہیں۔

































