
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے متعدد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے امریکہ اپنے مرضی کے ٹینکرز باآسانی گزار رہا ہے۔ ادھر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کی خبریں بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ ادھر خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے تیل کی ترسیل میں اچانک نمایاں کمی نے عالمی توانائی کی منڈی میں ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ ٹینکر ٹریکنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے آغاز میں خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے تیل کی برآمدات کا سات روزہ اوسط 5 ملین بیرل یومیہ سے بھی کم رہا۔ یہ اعداد و شمار اس دعوے کے بعد سامنے آئے ہیں کہ ستمبر کے آخر میں تیل کی ترسیل عارضی طور پر 14.5 ملین بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ چند ہی دنوں میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں آئی۔؟ کیا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آمدورفت معمول پر لانے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں؟ اور اس صورتِ حال کے عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
اصل صورتِحال کیا ہے؟
کپلر کے مطابق خلیج فارس اور بحیرۂ عمان سے مجموعی تیل کی برآمدات، جن میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ترسیل کے علاوہ فجیرہ اور عمان میں ہونے والی لوڈنگ بھی شامل ہے، اکتوبر کے آغاز میں 5 ملین بیرل یومیہ سے نیچے چلی گئی۔ یہ کمی اس لیے بھی اہم ہے کہ اگست اور ستمبر کے آغاز میں یہی بہاؤ تقریباً 10 سے 14.5 ملین بیرل یومیہ کے درمیان بتایا جا رہا تھا۔ تاہم یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مختلف ذرائع کے اعداد و شمار اور ان کی تشریح میں فرق پایا جا سکتا ہے۔ اس لیے 14.5 ملین بیرل یومیہ کے اعداد کو بھی ایک دعوے یا مخصوص مدت کے تخمینے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ مستقل معمول کے طور پر۔
ترسیل میں کمی کی ممکنہ وجوہات
اس کمی کی ایک بڑی وجہ خطے میں بڑھتا ہوا سکیورٹی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے 28 ستمبر کے بعد متعدد آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات محاصرے اور بعض جہازوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ مخالف فریق ان اقدامات کو عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر انشورنس، جہاز رانی اور مال برداری کی لاگت پر پڑتا ہے۔ اگر کسی سمندری راستے کو انشورنس کمپنیاں زیادہ خطرناک قرار دے دیں تو جہاز رانی کی کمپنیاں اضافی خطرہ مول لینے سے گریز کرسکتی ہیں، یا پھر زیادہ قیمت پر خدمات فراہم کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل کی آمدورفت کے اعداد و شمار درست ہیں تو پھر تیل کی قیمتیں اب بھی بلند کیوں ہیں۔؟ اس کی چار بنیادی وجوہات ہیں:
1️⃣ مغربی افریقہ سے چین تک 20 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل کی لاگت صرف گذشتہ دو ماہ کے دوران 6.5 ڈالر سے بڑھ کر 27 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے، یعنی 315 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
2️⃣ تیل بردار جہازوں (Freight Rate) کے کرائے بعض مشرقِ وسطیٰ سے ایشیا جانے والے راستوں پر تقریباً 30 ہزار ڈالر یومیہ سے بڑھ کر 12 لاکھ ڈالر یومیہ تک پہنچ گئے ہیں۔
3️⃣ مذکورہ مسائل اور بیمے کے بھاری اخراجات کے باعث اس وقت فوری طور پر قابلِ ترسیل اور جسمانی طور پر دستیاب (Physical) تیل کی مقدار کم اور اس کی قیمت زیادہ ہے۔
4️⃣ جغرافیائی و سیاسی حالات اب بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال جیسے نہیں ہوئے۔
کیا ستمبر کے آخر میں تیل کی ترسیل کا اضافہ پائیدار تھا؟
ایک تجزیہ یہ ہے کہ ستمبر کے آخر میں ترسیل میں ہونے والا اضافہ بڑی حد تک عارضی انتظامات کا نتیجہ تھا۔ ان میں Ship-to-Ship Transfer یعنی ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی اور شٹلنگ جیسے طریقے شامل ہوسکتے ہیں۔ ایسے انتظامات کے ذریعے خطرناک سمندری راستے سے براہِ راست گزرنے کی ضرورت کسی حد تک کم کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اضافی وقت، سکیورٹی اور مالی اخراجات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے بیرل تیل منتقل ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کس لاگت اور کس خطرے کے ساتھ منتقل ہوئے۔
ایران کی حکمتِ عملی۔۔۔۔ دباؤ یا مکمل ناکہ بندی؟
یہاں ایران کی مبینہ حکمتِ عملی کا ایک پہلو بھی زیرِ بحث آتا ہے۔ اگر کوئی ملک مکمل طور پر آبنائے ہرمز بند کر دے تو اس کا اثر صرف مخالف ممالک پر نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور خود خطے کے ممالک پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس محدود حملوں یا مخصوص جہازوں کو نشانہ بنانے سے خطرے کی سطح برقرار رکھی جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جہاز رانی اور انشورنس کی لاگت بڑھ سکتی ہے، بغیر اس کے کہ مکمل ناکہ بندی کا اعلان کیا جائے۔ لیکن یہ بھی واضح ہے کہ ایسی حکمتِ عملی کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے اور کسی بڑے فوجی تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
امریکہ کیلئے چیلنج کیا ہے؟
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف تیل کی عالمی ترسیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف خطے میں موجود فوجی خطرات کا مقابلہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تیل کی ترسیل برقرار رکھنے کے لیے اضافی فوجی، بحری اور حفاظتی اقدامات درکار ہوں تو اس کی قیمت بالآخر عالمی منڈی میں نظر آسکتی ہے۔ یہاں ایک اہم معاشی نکتہ بھی ہے: تیل کی قیمت صرف اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ آج کتنے بیرل مارکیٹ میں پہنچ رہے ہیں؛ مستقبل میں کتنے بیرل محفوظ طریقے سے پہنچ سکیں گے، اصل مسئلہ امکانی خطرات کا ہے، کیونکہ مارکیٹ اس خطرے کو بھی قیمت میں شامل کرتی ہے۔
عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
اگر خلیج فارس سے تیل کی ترسیل طویل عرصے تک کم رہتی ہے تو اس کے تین بڑے اثرات سامنے آسکتے ہیں: اول، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ۔ دوم، ایشیائی ممالک، خصوصاً بڑے تیل درآمد کنندگان کے لیے توانائی کی لاگت میں اضافہ اور سوم، متبادل راستوں اور متبادل ذرائعٔ توانائی پر دباؤ میں اضافہ۔ لیکن اس کے برعکس اگر کشیدگی کم ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بتدریج معمول پر آتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا موجودہ صورتحال کو صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک فوجی کشمکش کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے نظام کا ایک اہم راستہ ہے اور یہاں پیدا ہونے والا ہر سکیورٹی خطرہ عالمی منڈی، انشورنس، جہاز رانی اور بالآخر صارفین تک پہنچنے والی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ فی الحال اصل سوال یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز بند ہے یا کھلا؟ بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ: کیا اس راستے سے تیل کی ترسیل محفوظ، مسلسل اور معاشی طور پر قابلِ عمل انداز میں جاری رہ سکتی ہے۔؟ آنے والے دنوں میں تیل کی ترسیل کے اعداد و شمار، ٹینکرز کی نقل و حرکت اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال اس سوال کا زیادہ واضح جواب دے گی۔
آرٹیکل کا اصل بڑا سوال
اس پورے مضمون کو اگر ایک سوال میں تبدیل کیا جائے تو وہ یہ ہے: کیا امریکہ اور اس کے اتحادی صرف آبنائے ہرمز کو کھلا رکھ سکتے ہیں، یا اسے معاشی طور پر قابلِ عمل بھی رکھ سکتے ہیں۔؟ یہ بہت زیادہ دلچسپ سوال ہے، کیونکہ کسی سمندری راستے کا تکنیکی طور پر کھلا ہونا کافی نہیں۔ اگر جہاز وہاں جانے سے خوفزدہ ہوں، انشورنس انتہائی مہنگی ہو، متبادل راستے استعمال کرنا پڑیں اور ہر کھیپ کی لاگت بہت بڑھ جائے تو وہ راستہ عملاً محدود ہو جاتا ہے۔


































