Tue Oct 06, 2026

امریکا پر عدم اعتماد کے سبب مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، ایرانی صدر دنیا کے تیل کے ذخائر خوفناک حد تک کم ہوگئے، سربراہ آرامکو عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے نقصانات کا حساب لیا جائے، ایرانی وزارتِ خارجہ ایران کو بغیر کسی قیمت کے دھمکیاں دینے کا دور ختم ہو چکا، پاسداران انقلاب ٹرمپ صرف اپنے تصور میں ایران کیخلاف فتح حاصل کرسکتے ہیں، محسن رضائی یہودی تہواروں کے دوران 11 ہزار 409 اسرائیلیوں کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا ایران پابندیاں کے باوجود ترقی کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں، محسن نقوی اگلے ہفتے مکہ معاہدے کے ہنگامی اجلاس میں تازہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا عراق کی ایران کو نجف کیلئے روزانہ 40 پروازوں کی اجازت اسرائیلی نوجوان غزہ میں بچوں سمیت تمام فلسطینیوں کو قتل کرنے کے حامی ہیں مکہ اور مدینہ پر کسی بھی حملے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی، مہدی المشاط مسجد الحرام میں خودکش بمبار سے متعلق خبریں درست نہیں، سعودی عرب بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 2 نہتے پاکستانی شہری شہید حزب‌ اللہ کی نئی نسل نے صیہونیوں کو بے مثال نقصان پہنچایا، جنرل قاآنی پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس

روزانہ کی خبریں

عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کے نقصانات کا حساب لیا جائے، ایرانی وزارتِ خارجہ

تہران : ایرانی وزارتِ خارجہ نے عراق سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو عراق اور دیگر ممالک کے عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور کیے گئے جرائم کا جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
وزارتِ خارجہ نے امریکی فوج کے انخلا کو عراق کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے استحکام کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم قرار دیتے ہوئے عراقی عوام اور حکومت کو مبارکباد دی۔ بیان میں کہا گیا کہ 20 مارچ 2003 کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کے دعوے کے تحت شروع ہونے والی امریکی فوجی مداخلت اور اس کے بعد 23 سالہ فوجی موجودگی کے عراق اور خطے پر ناقابلِ تلافی اثرات مرتب ہوئے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دوران 10 لاکھ سے زائد عراقی جاں بحق ہوئے، جن میں ہزاروں خواتین اور بچے شامل تھے، جبکہ عراق کے بنیادی ڈھانچے، سیکیورٹی اور حکومتی نظام کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ بیان میں ماحولیاتی تباہی اور ابو غریب جیل میں عراقی مردوں اور خواتین پر تشدد جیسے جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایران نے عراق میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کی موجودگی کو ’تشدد، عدم تحفظ، تقسیم اور دہشت گردی کے فروغ‘ کا سبب قرار دیا اور عراقی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular