
تہران : ایرانی وزارتِ خارجہ نے عراق سے امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو عراق اور دیگر ممالک کے عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور کیے گئے جرائم کا جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
وزارتِ خارجہ نے امریکی فوج کے انخلا کو عراق کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے استحکام کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم قرار دیتے ہوئے عراقی عوام اور حکومت کو مبارکباد دی۔ بیان میں کہا گیا کہ 20 مارچ 2003 کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کے دعوے کے تحت شروع ہونے والی امریکی فوجی مداخلت اور اس کے بعد 23 سالہ فوجی موجودگی کے عراق اور خطے پر ناقابلِ تلافی اثرات مرتب ہوئے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دوران 10 لاکھ سے زائد عراقی جاں بحق ہوئے، جن میں ہزاروں خواتین اور بچے شامل تھے، جبکہ عراق کے بنیادی ڈھانچے، سیکیورٹی اور حکومتی نظام کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔ بیان میں ماحولیاتی تباہی اور ابو غریب جیل میں عراقی مردوں اور خواتین پر تشدد جیسے جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا۔ ایران نے عراق میں امریکی اور اتحادی فوجیوں کی موجودگی کو ’تشدد، عدم تحفظ، تقسیم اور دہشت گردی کے فروغ‘ کا سبب قرار دیا اور عراقی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔


































