
تحریر: رسول میر
7 اکتوبر2026ء کو طوفان الاقصیٰ کو ٹھیک 3 سال بیت چکے ہیں۔ غزہ بظاہر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ حماس سمیت دیگر تمام مزاحمتی عناصر خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔ لگتا ہے کہ کوئی ایسا مزاحمتی عنصر باقی نہیں بچا، جو اپنے وجود کا اظہار کرسکے۔ صہیونی عناصر بھی بڑے زور و شور سے یہی بیانیہ تراشنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ اب سب کچھ کلیپس کرچکا ہے، مزاحمت کے ہاتھوں اب کچھ بھی نہیں بچا۔ صہیونیوں کے علاوہ مسلمانوں میں موجود وہ تکفیری عناصر بھی اس بیانیے کی بھرپور تائید و ترویج کر رہے ہیں، جو ایران اور مقاومت کی دشمنی میں، بذریعۂ سعودی عرب، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔
بالفرض کچھ دیر کے لیے اس مفروضے کو بغیر کسی دلیل کے تسلیم کر بھی لیں تو یہ سوال اور حقیقت اپنی جگہ پر باقی ہے کہ اسرائیل، دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی طاقت امریکہ اور تمام عربی، مغربی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی غزہ کے انتظامات سنبھالنے میں بری طرح ناکام ہے۔ ختم شدہ حماس میں اب بھی اتنی طاقت ہے کہ عالمی طاقتیں جب بھی اس خطے کے حوالے سے کسی فیصلے کے لیے ٹیبل پر بیٹھتی ہیں، دوسری جانب آپ کو حماس اور مزاحمتی بلاک کے نمائندوں کا سامنا ہوتا ہے۔ مطالبہ اب بھی وہیں اٹکا ہوا ہے، جہاں حماس نے اٹکایا تھا، یعنی غزہ سے اسرائیل کا مکمل انخلا۔ 2025ء میں جب آخری معاہدہ ہوا تھا، تب بھی مسئلے کا حتمی حل غزہ سے اسرائیل کا مکمل انخلا تھا۔
جہاں تک جانی و مالی نقصان اور املاک کی تباہی کا تعلق ہے، اس میں دو واضح بیانیے پائے جاتے ہیں۔ ایک کربلائی، مزاحمتی، مقاومتی اور خود حماسی بیانیہ، یعنی جہاد، شہادت، اسارت، جلاوطنی اور مشکلات کو اپنا انتخاب اور قرآنی ضابطہ سمجھ کر اس پر فخر کرتا ہے، جبکہ دوسرا بیانیہ وہی صہیونی بیانیہ ہے، جس کی ترویج بڑے زور و شور سے تکفیری عناصر کر رہے ہیں۔ ایک تاثر یہ بھی دینے کی کوشش ہو رہی ہے کہ ایران کی وجہ سے حماس ٹریپ ہوچکی ہے۔ اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار سمیت حماس کے متعدد کلیدی رہنماء یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ آپریشن خالصتاً فلسطینی مجاہدین کی اپنی حکمتِ عملی تھی، البتہ پورے عالمِ اسلام میں واحد ایران تھا، جس نے ہر حوالے سے غزہ کا دفاع کیا اور اس راستے میں اپنے رہبرِ اعلیٰ سے لے کر سینکڑوں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
یقیناً طوفان الاقصیٰ کا توحید آمیز آپریشن ہی تھا، جس نے حالات کو اس نہج پر ڈال دیا ہے، جس کا حتمی نتیجہ امریکہ کا سپر پاور کا خاتمہ، اسرائیل کی نابودی، مشرقِ وسطیٰ سے سامراجی طاقتوں کا انخلا اور مغرب کے نوکر عرب بادشاہتوں کے خاتمے پر منتج ہوگا۔ جن کو یقین نہیں آتا، وہ عراق سے اتحادی افواج کی ذلت آمیز پسپائی کو اس راہ میں بارش کے پہلے قطرے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ تنگۂ ہرمز، باب المندب اور انصاراللہ یمن کی روزافزوں پیش قدمی مشرقِ وسطیٰ میں تاریخ کی کایا پلٹ کر رکھ دے گی۔


































