Thu Oct 08, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے

واشنگٹن: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے تہران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں اور عملی کمی کرنا ہوگی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے صرف مستقبل میں افزودگی کم کرنے کے وعدے کافی نہیں ہوں گے بلکہ ایران کو اپنی موجودہ صلاحیتوں میں نمایاں کمی کرنا ہوگی۔
الاسکا میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم میں شرکت کے بعد روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ کو ابھی یہ یقین نہیں کہ تہران جوہری مذاکرات کے حوالے سے کس سمت میں پیش رفت کرے گا اور اس کے حتمی فیصلے کیا ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس تنازع کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور واشنگٹن اسی ہدف کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے 2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ امیدوار ہونے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی پوری توجہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular