
۔ جتنا بھی کہا جائے: بیٹا! مت دیکھو، تکلیف ہوگی وہی جواب دیتے ہیں: میرا دل چاہتا ہے! مجھے اچھا لگتا ہے!*
لیکن جیسے ہی رات ہوتی ہے، تکلیفیں شروع ہوجاتی ہیں، آنکھ کا درد برداشت سے باہر ہوجاتا ہے، اور تب سمجھ میں آتا ہے کہ کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا انجام خوشگوار نہیں ہوتا۔
یہی وقت ہوتا ہے جب بچّہ ہوش میں آتا ہے اور دل میں کہتا ہے:
کاش بڑے لوگوں کی بات مان لیتا۔
اسی طرح ایک بزرگ یعنی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام بھی ہمیں یہی کہتے ہیں:
کتنی ہی نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو بعد میں حسرت اورپشیمانی لاتی ہیں۔
*لہٰذا ہمیں اپنے آپ پر نگاہ رکھنی چاہیے۔
*بچّے ویلڈنگ (جوشکاری) میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں
۔ جتنا بھی کہا جائے: بیٹا! مت دیکھو، تکلیف ہوگی وہی جواب دیتے ہیں: میرا دل چاہتا ہے! مجھے اچھا لگتا ہے!*
لیکن جیسے ہی رات ہوتی ہے، تکلیفیں شروع ہوجاتی ہیں، آنکھ کا درد برداشت سے باہر ہوجاتا ہے، اور تب سمجھ میں آتا ہے کہ کچھ خوشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا انجام خوشگوار نہیں ہوتا۔
یہی وقت ہوتا ہے جب بچّہ ہوش میں آتا ہے اور دل میں کہتا ہے:
کاش بڑے لوگوں کی بات مان لیتا۔
اسی طرح ایک بزرگ یعنی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام بھی ہمیں یہی کہتے ہیں:
کتنی ہی نگاہیں ایسی ہوتی ہیں جو بعد میں حسرت اورپشیمانی لاتی ہیں۔
*لہٰذا ہمیں اپنے آپ پر نگاہ رکھنی چاہیے۔


































