
تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران، امریکہ کی جانب سے ایران کی تازہ تجویز کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے، جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہے۔ غریب آبادی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ثالثوں نے امریکی جواب ایران تک پہنچا دیا ہے۔ یہ جواب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے دوران پیش کی گئی تجویز کے ردعمل میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے بھی اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے اور ان آراء کا ملک کے اندر متعلقہ ذرائع اور چینل کے ذریعے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایران نے امریکہ کو تجویز دی تھی کہ اگر واشنگٹن ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی منجمد رقوم کا ایک حصہ جاری کرے تو تہران سات روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے مستقل خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ غریب آبادی کے مطابق امریکی جواب کا جائزہ لینے کے بعد ایران مناسب اقدام کرے گا، تاہم تہران دوبارہ کسی جارحیت سمیت ہر ممکنہ صورت حال کے لیے ضروری تیاریاں بھی کر رہا ہے۔


































