
کولمبیا کی فوجی کشتیوں کو ونیزویلا کے ساحل کے قریب بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پکڑاگیا،2امریکی فوجیوں سمیت 34ملزمان گرفتار ،اعتراف کرلیا
ملزمان صدر مادورو کو اغوا کرکے امریکا لے جانا چاہتے تھے،مقصد اپوزیشن لیڈر جون گائیدو کو اقتدار میں لانا تھا، ٹرمپ براہ راست ملوث ہیں،صدر ونیزویلا
کاراکس(نیوز ڈیسک) ونیزویلا میں حکومت کا تختہ الٹنے کا امریکی منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا،ونیزویلا نے اپنے ساحل کے قریب کولمبیا سے تعلق رکھنے والی چند فوجی کشتیوں کو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پکڑلیا ، ملزمان کی نشاندہی پر مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد گرفتار شدگان کی تعداد 34ہوگئی، جس میں دو امریکی فوجی بھی شامل ہیں، دونوں امریکی فوجیوں پر دہشت گردی، سازش اور غیر قانونی اسلحہ اسمگلنگ کے الزامات عائد کئے گئے ہیں،جس پر انہیں 25سے 30سال کی سزاسنائی جاسکتی ہے، گرفتار امریکی شہریوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ صدر مادورو کو اغوا کرکے امریکا لے جانا چاہتے تھے، لیوک ڈین نامی امریکی نے بتایا کہ اس کا کام کاراکس ائرپورٹ کی کارروائی پر نظر رکھنا تھا ،صدر مادوروکے اغوا میں مدد کیلئے جنوری میں ونیزویلا کے 50باشندوں کو تربیت دی گئی تھی،صدر نکولس مادورو نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ دو امریکی شہریوں کو ایک سابق امریکی فوجی کے ساتھ مل کر ونیزویلاکی حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے،انہوں نے امریکی شہریوں ایرین بیری اور لیوک ڈین مین کے شناختی کاغذات اور ویزے دکھائے اور بتایا کہ ان سے بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ براہ راست ملوث ہیں،ونیزویلا کی حکومت نے حالیہ سازش کو 1961کی ناکام ساز ش کے مترادف قرار دیا ہے، حکوت کا کہنا ہے کہ اس سازش کا مقصد نکولس مادروکا تختہ الٹ کر ان کی جگہ اپوزیشن لیڈر جون گائیدو کو اقتدار میں لانا تھا، اس سازش کو امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک کی سرپرستی حاصل تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی ناکام بغاوت کے پیچھے امریکا کا ہاتھ نہیں، اگر میں حملے کا حکم دیتا تو یہ ایک کھلا حملہ ہوتا، ہم وہاں جاتے تو یہ کچھ نہیں کرسکتے تھے، ہمارے لوگ ان کا صفایا کردیتے، میں ایک چھوٹا ساگروپ نہیں بھیجتا،واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی کئی ماہ سے وینزویلا کی حکومت کے مخالفین کی حمایت کر کے فوجی بغاوت کے درپے ہیں۔


































