کمپنیوں کے حصص کوڑیوں کے مول بکنے لگے، بینکاری نظام ابتدائی جھٹکا سہہ گیا ہے لیکن وبا جاری رہی تو مالیاتی تناو¿ میں اضافہ ہو گا، فیڈرل ریزرو
بیروزگاروں کی تعدادچار کروڑ تک جاپہنچی ،سیاحت کا شعبہ برباد ہوچکا ،تیل کی قیمت میں کمی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی،کھانے پینے کی اشیا مہنگی
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کا مالیاتی شعبہ شدید خطرات کا شکار ہے، چار کروڑ کے قریب افراد بیروزگارہوچکے ہیں،اکثرکمپنیوں کے حصص کوڑیوں کے مول فروخت ہورہے ہیں، سب سے زیادہ نقصان ائرکمپنیوں کو پہنچاہے ،سیاحت کا شعبہ برباد ہوچکا ہے ،تیل کی قیمت میں کمی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی، مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے خبردار کیا ہے کہ کو عالمی وبا سے پیدا ہونے والے خطرات نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، فیڈرل ریزرو کے پالیسی اقدامات نے معیشت کو سہارا دیا اور بینکاری نظام ابتدائی جھٹکا سہہ گیا ہے، تاہم اگر یہ وبا طویل عرصے تک جاری رہی یا توقعات سے زیادہ سخت رہی، تو بڑے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ، اگر بحران جاری رہا اور گھرانے اور کاروبار آمدنی اور منافع سے محروم رہے تو مالیاتی تناو¿ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ادھر ملک بھر میں بیروزگاروں کی تعدادچار کروڑ تک جاپہنچی ہے، جس کے بعد معیشت پر معاشی بحران کا بوجھ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے ،دوسری جانب تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی سے امریکا سمیت دنیا بھر میں ملبوسات، ہوٹل کرایوں، کاروں، انشورنس اور ہوائی کرایہ سمیت کئی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی لیکن امریکا میں گروسریزاسٹورز پر کھانے پینے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، اپریل میں گروسری کی قیمتوں میں 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یہ 1974 کے بعد ایک ماہ میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- امریکہ
- امریکی معیشت نابودی کے قریب،کئی شعبے بند ہوگئے


































