
نمونیہ اور سانس کی بیماری سے ہلاکتوں کو بھی کورونا وائرس سے ہلاکت شمار اور لیبارٹری ٹیسٹس سے تصدیق نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، منی سوٹا کے سینیٹر کا انکشاف
شہر میں ایک تہائی اموات غیر تصدیق شدہ ہیں کیونکہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا،ان کی موت کی وجہ کورونا وائرس کوسمجھا گیا،محکمہ صحت نیویارک
منی سوٹا (نیوزڈیسک) امریکا میں کورونا وائرس سے اموات کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے کا پردہ چاک ہوگیا،مقامی ماہر نے نمونیہ اور سانس کے امراض سے مرنیوالوں کو بھی وبا سے ہلاکت میں شمار کرنے کا انکشاف کیا ہے ادھر نیویارک کے محکمہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے کہ شہر میں ایک تہائی اموات غیر مصدقہ ہیں، تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے سینیٹر اور ڈاکٹر اسکاٹ جینسن نے مقامی ٹی وی چینل سے بات چیت میں انکشاف کیا کہ انہیں نمونیہ یاسانس کی بیماری سے اموات کو بھی کورونا سے جوڑنے کی ہدایا ت ملی ہیں، منی سوٹا کے سینیٹرکی حیثیت سے انہیں گزشتہ ہفتے شعبہ صحت نے ای میل بھیجی جس میں موت کے سرٹیفکیٹس کو پْر کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، اس سے پہلے کبھی ایسا کرنے کیلئے نہیں کہا گیا،ای میل میں ہدایت دی گئی تھی کہ نمونیہ اور سانس کی بیماری سے ہلاکتوں کو بھی کورونا وائرس سے ہلاکت شمار کیا جائے اور اس کیلئے لیبارٹری ٹیسٹس سے تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں، ادھر نیویارک کے محکمہ صحت نے کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں سے بیشتر کو مشتبہ قرار دیدیا، محکمہ صحت کے مطابق 13 اپریل تک نیویارک میں 10 ہزار 367 اموات ہوئیں، 6 ہز ار 589 افراد کوروناوائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ 3 ہزار 778 اموات مشتبہ ہیں کیونکہ ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا تاہم ان کی موت کی وجہ کورونا وائرس کوسمجھا گیا، محکمہ صحت کے مطابق شہر میں کورونا وائرس سے مصدقہ اور غیر مصدقہ اموات کی الگ فہرستیں بنائی گئی ہیں۔


































