
امریکا نے شام میں نہیں ، سرحد پر عراق کے اندر حملہ کیا، دہشت گردوں کو روکنے کیلئے تعینات فوجیوں کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج نکلیں گے، حشد الشعبی
امریکا کوجارحیت کا خود زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، سارے سمجھوتے اور جنگ بندی کے فیصلے کھٹائی میں پڑ جائیں گے،مزاحمتی گروہو ں کا مشترکہ بیان
بغداد(نیوزڈیسک) الحشدالشعبی نے اپنے ٹھکانے پر حملے کے سنگین نتائج سے امریکا کو خبردار کردیا جبکہ مزاحمتی گروہوں نے مشترکہ بیان میں امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کو اس حملے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، تفصیلات کے مطابق شام کی سرحد کے قریب حشد الشعبی کے ٹھکانے پر حملے نے امریکی منافقت عیاں کردی ، حشد الشعبی نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکا نے شام میں نہیں ،شامی سرحد کے قریب عراق کے اندر حملہ کیا،سرحد پر دہشت گردوں کو روکنے کیلئے تعینات فوجیوں کو نشانہ بنانے کے سنگین نتائج نکلیں گے، ادھر مزاحمتی گروہوں نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ امریکا کواس جارحیت کا خود زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، نتیجے میں سارے سمجھوتے اور جنگ بندی کے فیصلے کھٹائی میں پڑ جائیں گے، عراق کو جارحیت کا نشانہ بنانے والے ملکوں اور قابض فوجیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں واضح موقف اختیار کرنے سے متعلق بغداد حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے انہوں نے حکومت عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ ان عہدیداروں اور شخصیات کے بارے میں کہ جنھوں نے عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی پر حملے کے سلسلے میں قابض فوج کے ساتھ تعاون کیا ہے، مکمل تحقیق اور مکمل وضاحت پیش کرے،واضح رہے کہ دہشتگرد امریکہ کے جنگی طیاروں نے عراق اور شام کے سرحدی علاقے البوکمال اور القائم میں ایک گھر اور ایک اور مقام پر بمباری کی جس کے نتیجے میں حشد الشعبی کا ایک جوان شہید اور4زخمی ہوئے


































