
دوحہ معاہدے پر عمل در آمد ہی سب سے دانش مندانہ راستہ ہے،امریکاڈیڈ لائن میں تاخیر کرتا ہے تو سمجھا جائے گا کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے
امریکا اور نیٹو نے افواج نہ نکالیں تو جنگ جاری رکھنے پر مجبور ہوں گے، ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری معاہدہ توڑنے والوں پر ہو گی،طالبان کادو ٹوک موقف
کابل/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) طالبان نے یکم مئی تک افغانستان سے غیرملکی فوجوں کا انخلا نہ ہونے پر جنگ میں شدت لانے کا اعلان کردیاجائ ے گا، طالبان نے یہ اعلان امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا کہ افغانستان میں موجود 2500 امریکی فوجی یکم مئی کے بعد بھی تعینات رہ سکتے ہیں،
طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر امریکا اور نیٹو نے اپنی افواج طے شدہ معاہدے کے تحت نہ نکالیں تو وہ جنگ جاری رکھنے پر مجبور ہوں گے، طالبان نے جو بائیڈن کے بیان کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکاکیلئے افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے دوحہ معاہدے پر عمل در آمد ہی سب سے دانش مندانہ راستہ ہے، اگر امریکا فوج کے انخلا سے متعلق معاہدے میں طے کردہ ڈیڈ لائن میں تاخیر کرتا ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ، جنگ کو طول دینے، ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہو گی جو معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے ، وہ اب بھی معاہدے پر قائم ہیں،امریکا جنگ کے حامیوں کے مشوروں کی وجہ سے اس تاریخی موقعے کو گنوا رہا ہے۔


































