
افغانستان میں القاعدہ اورداعش کے دوبارہ فعال ہوجانے کا خدشہ ہے، یہ خطے کے ممالک اورخاص طورپرپاکستان کیلئے تشویشناک ہوگا،امریکی جنرل کا بہانہ
ہمارا عراق سے نکلنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ، واشنگٹن بغداد اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت ہم عراق میں موجود رہیں گے، کمانڈر سینٹرل کمانڈ جنرل میکنزی
واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکی فوج نے عراق اور افغانستان میں موجودگی برقرار رکھنے کیلئے بہانے تراشنا شروع کردئے ہیں، امریکا کے کمانڈر سینٹرل کمانڈ جنرل کیتھ فرینکلن میکنزی نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ اورداعش کے دوبارہ فعال ہوجانے کا خدشہ ہے، یہ خطے کے ممالک اورخاص طورپرپاکستان کیلئے شدید تشویش کی بات ہے، ان تنظیموں کا فعال ہوجانا وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے ، افغانستان سے نکلنے کے بعد دباﺅبرقرار نہ رکھا گیا تو القاعدہ اورداعش افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں، یہ دباﺅ افغان حکومت کی طرف سے ڈالا جاسکتا ہے، ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں افغان حکومت کے خد و خال کیا ہوں گے،انہوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا ہے کہ ہمارا عراق سے نکلنے کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ، واشنگٹن بغداد اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے تحت ہم عراق میں موجود رہیں گے، وہ نہیں سمجھتے کہ امریکی فوج کو عراق سے فوری طور پر نکل جانا چاہیے،ا ±دھر افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملرنے کہا کہ فوجی انخلا کیلئے اقدامات شروع کردیے ہیں اورفوجی اڈے اورآلات افغان فورسز کے حوالے کرنےکا آغاز ہوگیا ہے، جیسے ہی ہماری فورسز یہاں سے مکمل طورپر چلی جائیں گی تو ہم ملٹری بیسز ابتدائی طورپر افغان وزارت دفاع اور دیگر افغان فورسز کے حوالے کریں گے، افغان سیکیورٹی فورسزکے ساتھ تعاون جاری رہے گا، طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ القاعدہ سے تعلق ختم کردیں گے۔


































