
50 کروڑ ڈالر سے زائد میں خریدے گئے 20 میں سے 16 ٹرانسپورٹ طیارے چند سال ہی میں ناکارہ ہوگئے اور انہیں صرف 40ہزار ڈالر میں بیچنا پڑا
امریکی فوج کا سابق جنرل ملوث ، کسی پر فوجداری یا سول مقدمہ چلایا جائے گا اور نہ ہی کسی کو جواہدہ یا موردالزام ٹھہرایا جائے گا،امریکی رپورٹ میں انکشاف
کابل ( نیوز ڈیسک)افغان فوج کیلئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد میں خریدے گئے 20 میں سے 16 ٹرانسپورٹ طیارے چند سال ہی میں ناکارہ ہوگئے اور انہیں صرف 40ہزار ڈالر میں بیچ دیا گیا، اس بات کا انکشاف افغانستان کی تعمیر نوکیلئے امریکی مالی امداد پر نظر رکھنے کیلئے بنائے گئے ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل آف افغان ری کنسٹرکشن کی تازہ ترین رپورٹ میں کیا گیا، رپورٹ کے مطابق یہ طیارے افغانستان کیلئے اٹلی سے خریدے گئے تھے، امریکی مالی امداد سے افغانستان کی تعمیر نو کے منصوبوں میں2.4 ڈالر کے منصوبے تباہ و برباد ہو گئے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے گذشتہ سال مئی میں اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جی 222 ایئرکرافٹ پروگرام میں جو ناکامی ہوئی اس میں کسی پر فوجداری یا سول مقدمہ نہیں چلایا جائے گا اور نہ ہی کسی کو جواہدہ یا موردالزام ٹھہرایا جائے گا رپورٹ میں کہا گیا کہ 54 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گئے 20 جی 222 طیارے اٹلی سے افغان افواج کے لیے خریدے گئے تھے، ان میں سے 16 کو صرف چند سال میں ہی اسکریپ یا ناکارہ قرار دے کر 40 ہزار ڈالر میں بیچ دیا گیا جبکہ چار طیارے اب بھی جرمنی میں ایک امریکی ہوائی اڈے پر کھڑے ہیں ، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کا ایک جنرل جو اب ریٹائرڈ ہو چکا ہے اس سودے کا ذمہ دار تھا اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اس کمپنی کے لیے کام کرنے لگا جس نے یہ طیارے فروخت کیے تھے ، طیاروں کا یہ سودہ جس امریکی کمپنی سے کیا گیا اس کے بارے میں امریکی ایئر فورس کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا لیکن ان تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے ٹھیکہ اسی کمپنی کو دے دیا گیا، رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ درجنوں تعمیراتی منصوبے جن میں ا سکول، ہسپتال اور بجلی پیدا کرنے والے کارخانے شامل ہیں سرکاری سطح پر غفلت، استعمال نہ کیے جانے، غیر معیاری تعمیراتی کام یا جنگ کی وجہ سے یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا زبوں حالی کا شکار ہیں۔


































