
طالبان نے تشدد میں کمی کے لیے دہشت گرد گروپوں سے اپنے تعلقات ختم کئے نہ ہی وہ بامعنی مذاکرات کرنے کے اپنے وعدوں پر پورا اتر رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ
افغانستان میں تشدد میں اضافے کا ذمہ دار امریکا ہے، امریکا نے حملے تیز کر دیے، ہم دفاع کرنے پر مجبور ہیں، طالبان،نیٹو کا بھی طالبان پر شرائط پوری نہ کرنے کا الزام
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی افغان امن کھٹائی میں پڑگیا، بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فروری 2020 میں دوحہ میں امریکا طالبان معاہدے پر نظرثانی کریں گے، جبکہ طالبان نے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی سے بات چیت میں کہا کہ امریکا، فروری 2020 میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ کیا طالبان نے افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے دہشت گرد گروپوں سے اپنے تعلقات ختم کرنے اور افغان حکومت و دیگر فریقین سے بامعنی مذاکرات کرنے کے اپنے وعدوں پر پورا اتر رہے ہیں یا نہیں، امن عمل کے لیے مضبوط سفارتی حمایت پر روشنی ڈالی جس کا مقصد تنازع کے فریقین کو پائیدار سیاسی تصفیہ اور مستقل و جامع سیز فائر میں مدد فراہم کرنا ہے جس سے تمام افغانوں کو فائدہ پہنچے، تشدد ختم ہونے تک امریکی فوج کا افغانستان سے مکمل انخلا نہیں ہوگا، پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ طالبان نے نہ تو القاعدہ سے روابط ختم کیے اور نہ ہی پرتشدد کارروائیاں ترک کی ہیں، طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ افغانستان میں تشدد میں اضافے کا ذمہ دار امریکا ہے، امریکا نے طالبان پر حملے تیز کر دیے ہیں، ہم امریکی حملوں کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں، اس سے پہلے نیٹو کے ایک عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ اپریل کے آخر میں اتحادیوں کی جانب سے مکمل انخلا نہیں ہوگا کیوں کہ شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں، نئی امریکی انتظامیہ کے آنے سے پالیسی میں تبدیلی آئے گی، انخلا کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا، ایک زیادہ بہتر انخلا کی حکمت عملی بن سکتی ہے


































