
قومی سلامتی کے پیش نظر نائن الیون میں سعودی کردار کے بارے میں خفیہ اطلاعات لواحقین کو نہیں دی جاسکتیں، یہ خفیہ قومی دستاویزات کا حصہ ہیں
سعودی کردار سامنے لائے تو قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا، اٹارنی جنرل،انٹیلی جنس اور دوسرے عہدیداروں کا عدالت میں جواب، معلومات دینے سے انکار
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی حکومت نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں سعودی کردار سے متعلق معلومات کو قومی راز قرار دیتے ہوئے اسے عوام کے سامنے لانے سے انکار کردیا،نائن الیون واقعہ میں ہلاک افرادکے درجنوں لواحقین کی جانب سے سعودی حکومت کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، ان درخواستوں پر اٹارنی جنرل ولیم بار،نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر رچرڈ گرینیل اور دوسرے حکام نے اپنے جوابات عدالت میں جمع کرادئے، انہوں نے اپنے جوابات میں کہا ہے کہ واقعہ میں سعودی کردار سے متعلق مزید معلومات سامنے لانے سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا، قومی سلامتی کے پیش نظر حملوں میں سعودی کردار کے بارے میں خفیہ اطلاعات لواحقین کو نہیں دی جاسکتیں،یہ خفیہ دستاویزات، خفیہ قومی دستاویزات کا حصہ ہیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ معلومات خفیہ رکھنے کے جواز کو بھی مخفی رکھنا ضروری ہے، ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی جانب سے 4 سر بمہرجوابات عدالت میں جمع کرائے گئے جنہیں عوام کے سامنے نہیں لایا جاسکتا،پانچواں اضافی جواب سی آئی اے نے جمع کرایاہے اسے بھی صرف جج کو دیا جاسکتا ہے درخواست گذاروں کے وکلا بھی اسے نہیں پڑھ سکتے،اٹارنی جنرل نے عدالت سے اصرار کیا کہ اس معاملے پر عوامی بحث سے ایسی معلومات افشا ہوں گی جس سے ریاست کے رازداری کے استحقاق کے دعوے کو بہت نقصان ہوسکتا ہے،جس کی مجھے روک تھام کرنی ہے، لواحقین نے سعودی حکومت کے خلاف تاوان کا دعوی کررکھا ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ حملے میں سعودی شہری ملوث تھے، چونکہ امریکی حکومت نے خفیہ دستاویزات دینے سے انکار کردیا ہے لہذا مقدمے میں ان کی جیت کے امکان بہت کم ہوگئے ہیں، یاد رہے کہ حملوں میں ملوث19 ہائی جیکروں میں سے16سعودی اور دو متحدہ عرب امارات کے شہری تھے لیکن امریکی حکومتوں نے ریاض کے ساتھ اپنے وسیع اقتصادی روابط اور اربوں ڈالر کے فوجی نیزاسلحہ جاتی سمجھوتوں کے پیش نظر ان حملوں میں سعودی کردار سے متعلق دستاویزات کو خفیہ رکھا ہے۔


































