تہران : آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران 2 تیل بردار جہازوں اور 1 ٹگ بوٹ میں آگ لگ گئی۔ جبکہ ایرانی بحریہ نے دو امریکی ساختہ لوکاس ڈرونز کو اپنے کنٹرول میں لے کر بحفاظت اتارنے کے بعد قبضے میں لے لیا۔
ایرانی میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ رات کے دوران دو الگ واقعات پیش آئے۔ پہلے واقعے میں ایک بڑا تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی اور اسے روک دیا گیا۔
بیان کے مطابق ایک اور بڑے تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں مقررہ راہداری سے باہر نکلنے کی کوشش کے دوران شدید آگ لگنے کے بعد رکنا پڑا۔ اس جہاز کی مدد اور آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والی ایک ٹگ بوٹ بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے الیکٹرانک وار فیئر یونٹ نے دو امریکی ساختہ لوکاس بغیر پائلٹ طیاروں کا کنٹرول حاصل کیا، انہیں محفوظ مقام پر اتارا اور جنگی مالِ غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں امریکا اپنے شہریوں اور علاقائی اتحادیوں پر بھاری انشورنس اخراجات کا بوجھ ڈال رہا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کی کوششوں سے امریکا کو مزید مالی نقصان اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت محدود کردی تھی۔


































